New Romantic Novels 2022 رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

New Urdu Romantic Novels, Heart    touching     romantic novel 

                  رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

           Websitehttp://Novelmasters.org

            catagary:web special

Heart touching rude hero based novel,new forced marriage based novel , Cruel hero based romantic novels is full of emotional, romance,thrill and suspens story of two girls who are friends ،who love each other very much.one is very quiet and patient.The other is fighting.one is sacrificing her life for her husband and the other is rejecting her husband.This story is all about hate and love.

رہے کیو فاصلے صدا درمیان

ازقلم_زوبیہ_شیخ

قسط_نمبر_05

بیٹے کیا کہنا چاہتی ہیں آپ کھل کر بولیں؟ مسلسل اسے خاموشی کی نظر ہوتے دیکھا تو احمد رضوی بے صبری سے پوچھ بیٹھے تھے ۔۔

چاچو پاپا میں چاہتی ہوں میری شادی اگلے ایک مہینے کے اندر اندر ہو جانی چاہیے اس نے اپنی طرف سے بات کہہ کر گویا سالار پر ایک اور ستم ڈھایا تھا جبکہ باقی سب جو حیرانگی سے اسکی بات سن رہے تھے ایک دم بول اٹھے تھے

کیا کہہ رہی ہو ہوش میں ہو؟ سب سے پہلے مسسز ابراہیم نے ناگواری سے اسے ٹوکا تھا۔۔

مما میں ٹھیک کہہ رہی ہوں اور حسن کی فیملی بھی یہی چاہتی ہے اسنے قدرے آہستگی سے ہلکی آواز میں اپنی بات کا جواز پیش کیا تھا جبکہ ابراہیم رضوی بہت گہری نظروں سے اسکو ٹٹول رہے تھے ۔۔

ٹھیک ہے حسن کو بولو گھر والوں کو بھیجے باقی معاملات کے لیے ۔ انہوں نے جیسے اس کی خواہش کی تکمیل کی تھی جبکہ سالار وہ تو ساکن رہ گیا تھا ۔

اس کی سزا کا عندیہ کتنی جلدی سنائی دے رہا تھا ایسی سزا جس میں اسکا قصور دور دور تک نہیں تھا۔۔۔

زینی نے بس سر ہلانے پر اکتفا کیا تھا جبکہ باقی سب اس پر خاموش نظر ڈالتے نکلے تھے کے سالار کی بات پر قدم ٹھٹکے تھے۔۔

بڑے پاپا یہ شادی نہیں ہو سکتی !! سب نے گھوم کر اب کی بار سالار کو حیرانگی سے دیکھا تھا ۔

کیوں کیوں نہیں ہو سکتی یہ شادی؟ اس پہلے کوئی پوچھتا زینی نے تڑخ کر اس سے پوچھا تھا جس کو سب نے بہت ناگواری سے دیکھا تھا

بیہیو زینی!!! ابراہیم رضوی نے سخت لہجے میں اسے ٹوکا تھا جبکہ وہ نفرت بھری نگاہ سالار پر ٹیکے وہی خاموش کھڑی تھی

پاپا یہ شادی نہیں ہو سکتی ایک بار پھر بولا تھا جس کا جواب ذینی نے زہر خند لہجے میں دیا۔

روک کے دیکھاؤ!!

 یہ شادی تو ہو کے رہی گی۔۔۔۔ اب کی بار اس کے لہجے کی کاٹ سب نے محسوس کی تھی ۔۔

کیا بدتمیزی ہے تم دونوں کو ذرہ لحاظ ہے کوئی ؟ ایک کہہ رہا شادی ہوگی دوسرہ کہہ رہا نہیں ہوگی کیا ڈرامے لگائے ہوئے کھل کو بولو جو بولنا ہے اور زینی اب آپکی آواز نہ آئے۔۔۔

احمد رضوی بہت سخت لہجے میں زینی کو ٹوکتے ہوئے سالار کی طرف گھومے تھے۔

بولو کیا کہنا چاہتے ہو؟ خواتین کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا آج سے پہلے تو یہ سب نہیں ہوا تھاا

پاپا !! لمحے بھر کو وہ رکا تھاا پھر سب کو ایک نظر دیکھ کر دوبارہ گویا ہوا تھا

کیونکہ پاپا میں زینی سے محبت کرتا ہوں اور شادی کرنا چاہتا ہوں اس نے گویا اپنی بات کہہ کر انکھیں بند کی تھی ذلت کے احساس سے زینی کا بدن تپنے لگا تھا جبکہ باقی سب ہونک بنے اسے دیکھ رہے تھے

تم انتہائی گھٹیا اور نیچ انسان ہو سالار رضوی وہ اس کی طرف بڑھی تھی اور اس کو گریبان سے پکڑ کے چیخی تھی

صورتحال نازک تھی سب اپنی جگہ سن تھے سوائے ان دونوں کے

زینی چھوڑو میرا گریباں وہ چند پل دیکھنے کے بعد دھاڑا تھا کہ وہ دو قدم پیچھے ہوئی تھی ۔۔

پاپا میں آپ سب کو بتا رہی ہوں اگر آپ نے کوئی فیصلہ میرے خلاف کیا تو آپ میرا مرا منہ دیکھیں گے وہ کہتی روتے ہوئے نکلتی چلی گئی تھی جبکہ اب سب کا رخ سالار کی طرف تھا۔

احمد رضوی آگے بڑھے تھے اور تھپڑ رسید کرنے لگے تھے کہ اپنے بھائی کی آواز کی وجہ سے وہیں مٹھیاں بھنچے کھڑے ہو گئے تھے

ادھر آؤ کچھ موقف بعد ابراہیم رضوی نے اسے اپنے پاس بلایا تھا اور ہاں میں سر ہلائے وہ ان کے سامنے مجرم بن کے کھڑا ہوا تھا۔۔۔

تم جانتے ہو تم نے ابھی کیا بولا؟ ٹھہرے مگر سرد لہجے میں تھوڑی دیر پہلے کی گئی اس بات کا جواب انہیں چاہیے تھا جو وہ بخوبی لینا چاہتے تھے۔۔

جی پاپا جانتا ہوں کیا کہا ہے بخدا میں نے ایک ایک لفظ سچ کہا ہے آپ کیا مجھے اس قابل نہیں سمجھتے کہ زینی کو مجھ سے منسوب کر سکیں ۔۔۔

ایک سانس میں وہ سب کچھ کہتے ساتھ ہی سوال کرنے لگا تھا

اپنی عمر دیکھو اور زینی کی عمر دیکھو ؟ ایک اور پتا انہوں نے پھینکا تھا بجائے اس کا جواب دینے کے ایک نیا سوال اور مظبوط جسے وہ جھٹلا نہیں سکتا تھا باقی سب تماشائیوں کی طرح دیکھ رہے تھے گھر کی خواتین کو اجازت نہیں تھی ان کے سامنے بولنے کی تبھی خاموش تھیں جبکہ وہ اور ابراہیم رضوی ایک دوسرے کے روبرو کھڑے تھے

جی جانتا ہوں پر اتنا بھی کوئی تضاد نہیں ہماری عمروں میں کہ اس بات کو جواز بنا کر زینی کو مجھ سے دور کیا جائے۔۔

ایک بار پھر وہ سکون سے جواب دیتا ان کی نظروں میں جھانکنے لگا تھا جبکہ اس کی بات پر باقی سب بھی اپنی اپنی جگہ چور بنے تھے

دیکھو سالار !!! ابھی وہ کچھ بولتے کہ سالار ایک بار پھر بول پڑا تھا

بڑے پاپا میں قسم کھاتا ہوں زینی کو ہمیشہ خوش رکھوں گا پر یہ ستم نہ کیجیے کہ وہ مجھ سے دور ہو جائیں میں ان کے ںغیر جینے کا تصور بھی نہیں کر سکتا پلیزززز ورنہ میں مرجاونگا۔۔۔۔۔۔

سب گھر والے ششد تھے سالار کی ماں اگے بڑھی تھی اور اسے گلے لگایا تھاا یہ کیسی ضد تھی اس کی جس نے سب کو جھنجوڑ کے رکھ دیا تھاا

بڑے پاپا اس کی تڑپ دیکھ کے حیران تھے اتنی محبت وہ قدرے اگے بڑھے تھے اور اگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا ۔۔۔پھر اپنی بیگم سے مخاطب ہوئے تھے

امتیاز کو میں منا لونگا اپنے بیٹے کے لیے ان سے معذرت بھی کرلوں گا آپ زینی کو منائے سالار سے شادی کے لیے ۔۔۔۔ وہ اپنی بات کہتے وہاں سے نکلے تھے اور سالار تو حیران تھا ابراہیم رضوی ک اس قدر محبت پر کتنا انوکھا مان بخش گئے تھے وہ اسے ۔۔۔۔۔

باری باری دونوں خاتون نے گلے لگایا تھا اسے پیار کیا تھا زینی جو اوپر کھڑی پھٹی پھٹی نگاہوں سے سب دیکھ اور سن رہی تھی وہیں منجمند ہوئی تھی۔۔

کیا اس کے باپ کو اس کی بات کی سنگینی کا احساس نہ ہوا تھا یا پھر وہ محض جذبات میں کہے جانے والے الفاظ سمجھ بیٹھے تھے وہ نہ میں سر ہلاتی ہوئی الٹے قدموں چلنے لگی تھی کہ سیڑھیوں کی سائڈ پر رکھا گلدان گرا تھا جو سب کو آپنی طرف متوجہ کر گیا تھا سالار نے زینی کو دیکھتے اوپر کی طرف دوڑ لگائی تھی اس سے پہلے وہ اس تک پہنچتا دروازہ بند کیے نیچے بیٹھتی چلی گئی تھی ۔۔۔

کھولو دروازہ زینی!!!! وہ غصے کی زیادتی سے چیخا تھا مگر اندر سے جواب نداراد تھا۔

زینی پلیز دروازہ کھول دو بےبسی سی بےبسی تھی اب کی بار قدرے وہ مدہم آواز میں بولا تھا جبکہ اندر سے مسلسل سسکیوں کی آواز آ رہی تھی

ٹھیک ہے نہ۔کھولو دروازہ میں بھی یہیں بیٹھا رہوں گا۔۔۔۔ وہ اب اس کو وارن کرتا خود بھی باہر دروازے سے ٹیک لگا کر بیٹھ چکا تھاا۔۔۔۔۔

دفع ہو جاو سالار یہاں سے دو منٹ بعد اسکی چنگھاڑتی آواز سالار کے کانوں میں پڑی تھی آواز تھا یا رس جس سے اس کی جان میں جان آئی تھی ۔۔

ٹھیک ہے بات مانتے وہ اٹھا تھا جبکہ زینی کی جان میں جان آئی تھی جیسے دروازہ کھول کر وہ اندر ہوئی سالار نے تبھی انٹری ماری تھی قدموں کی آواز پر پلٹ کر دیکھا تو زینی کا پارہ ہائی ہوا۔۔۔

تم انتہائی گھٹیا نیچ انسان ہو اس طرح کی حرکتیں کر کے تم کیا ثابت کرنا چاہتے ہو؟ غصے میں وہ اگے بڑھی تھی اور گریبان کھینچے اسے جھٹکا دیا تھااا

جبکہ اس بار سالار نے کچھ نہیں کہا تھا گریبان پکڑنے کی غلطی وہ دو دفعہ کر چکی تھی جسے سالار نظر انداز کر گیا تھا اس کے ہاتھ کو گریبان سے ہٹائے وہ اگے ہوا تھا فاصلہ نہ ہونے کے برابر تھا۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں ہوں نیچ گھٹیا انسان آپ کی ہر بات پر میں سر خم تسلیم کرتا ہوں اور رہی یہ بات کہ میں اس طرح کی حرکتیں تو بخدا یہ حرکتیں آپکو دیکھ کر خود بخود ہو جاتی ہیں مجھ سے لبوں پر جلا دینے والی مسکراہٹ لیے وہ زینی کو سرتاپا سلگا گیا تھاا ۔

تمہیں تو میں۔۔۔۔ ابھی وہ اس پر ایک بات پھر ہاتھ اٹھاتی کہ سالار نے سختی سے ہاتھ پکڑے مزید قریب کیا تھاا۔۔

آپکی ہر ادا پر یہ جان قربان پر یہ جو آپ کر رہی یہ تھوڑا نہ قابلِ برداشت ہے اس لیے اگلی دفعہ خیال رکھیے گا۔۔۔۔۔

ہاتھوں پر مسلسل گرفت پڑتے دیکھ وہ ہچکیوں سمیت رونے لگی تھی۔۔۔

زینی پلیز…. بے بسی سے وہ اپنے لب کاٹنے لگا تھا زینش ابراہیم کے آنسو اسے اپنے دل پر گرتے محسوس ہو رہے تھے

سالار میں تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں خدا کے لیے یہ سب چھوڑ دو میں نہیں کر سکتی شادی تم سے۔۔۔۔۔۔

اب کی بار وہ مسلسل گڑگڑانے لگی تھی

کیوں کیوں نہیں کر سکتی آپ مجھ سے شادی اس کے گڑگڑانے کو نظر انداز کیے اس کی شادی نہ کرنے والی بات پر دوبدو بولا تھا

اب کی بار اس کے لہجے میں ہڈدھرمی تھی جو کہ زینی کو مزید بھڑکا گیا تھا ۔۔

کیونکہ تمہیں میں اس قابل نہیں سمجھتی کہ اپنے حقوق و ضوابط تمہارے نام کر دوں ۔۔۔۔

جبکہ اس بات پر سالار کا دل سکڑا تھا لمحے کے ہزاروے حصے میں اسنے خود کو کمپوز کیا تھا اور دل جلا دینے والے انداز میں گویا ہوا تھا

چلیں آپ نہ صحیح میں تو سمجھتا ہوں آپکو خود کے قابل اور رہی بات حقوق و ضوابط کی تو انشا اللہ اس ہفتے تک اپنے نام کروا کر اپنا پیار بھرا مان بخشوں گا جبکہ اس کے اس طرح بے باکی سے کہتے دیکھ ذینی کا دل پہلو میں دھڑکنے لگا مزید کچھ بولنے کی سکت نہ تھی تبھی بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھی

سالار چند پل خاموشی سے دیکھتا رہا پھر پلٹا تھا اور آگے کے لائحہ عمل کی تیاری کرنے کا سوچتے نکلتا چلا گیا تھا

Be Shure to mention in the comments
Continued ……
#novelmaster.org
Read new rude hero based,Rahay Kyu faslsy sada Darmiyan for this website

 #Novelmaster.org

for more romantic Urdu and English novels plzzz visit this site and give your feedback❤️🔥

Leave a Comment