رہے کیوں فاصلے صدا درمیان New Romantic Novels,Heart touching romantic novel

 

New urdu Romantic Novels, heart touching romantic novel

 

رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

Websitehttp://Novelmasters.org

catogary:web special

Novel name: Rahay kyu Fasly sada Darmiyan epi 03

Written by: zubia sheikh

Heart touching rude hero based novel,new forced marriage based novel, cruel hero based Romantic novel is full of emotions , Romance,thrill&suspens story of two girls who are friends ,who love each other very much. One is very quiet and patient. The other is fighting. One is sacrificing her life for her husband and the other is rejecting her husband.This story is all about hate and love 

رہے کیوں فاصلے صدا درمیان #

ازقلم:زوبیہ شیخ#

قسط_نمبر_03#

 

 

دروازہ ٹھاہ! کے ساتھ کھلا تھا وہ اپنی نئی زندگی کے بارے میں سوچ کے خوش تھی کہ اچانک دروازہ کھلنے پر دل پر ہاتھ پڑا تھا دروازے کی طرف مڑ کے دیکھا تو اپنے سامنے کھڑی ہستی کو دیکھ ڈر کہیں دور جا سویا تھا جسکی جگہ بڑی سرعت سے غصے نے لی تھی۔۔

کیا بدتمیزی ہے سالار؟ کب بڑے ہونا ہے تم نے؟ وہ شیشے کے سامنے سے ہٹتے ہوئے اب اس کے سامنے آئی تھی جو مسلسل اسے تک رہا تھا

وہ تو اس کے دو آتشہ روپ کو دیکھ ٹھٹکا تھا

کتنی مکمل لگ رہی تھی وہ بالوں کو کمر پر ڈالے آنکھوں میں کاجل اور لبوں پر نیچرل گلوز لگائے وہ سالار رضوی کو ایک بار پھر چاروں شانے چت کر چکی تھی۔

پر وہ حسینہ آج اس کے لیے تو نہیں سنوری تھی وہ توکسی اور کے نام سے منسوب ہونے جا رہی تھی جسکہ تصور سالار رضوی کو اندر تک ہلا گیا تھا

ایک ایسی ہستی کے ساتھ جو سالار رضوی نہیں تھا جسکا تصور کم از کم کسی اور کو تو نہیں پر سالار رضوی کے لیے سوہان روح تھا

ہجر تو وہ لکھنے جا رہی تھی،پر کیوں؟یہ سوال صرف سامنے کھڑی لڑکی کے پاس تھا۔

خود کو کمپوز کرتے ہوئے اپنی بکھرتے دل کو سنبھالتے وہ اندر آیا تھااور سامنے کھڑی لڑکی کی کالی گھنگھور آنکھوں میں اپنی شربتی آنکھیں گاڑے جو اس وقت مائل سرخ ہو رہی تھی اس سے اپنے سوالوں کا جواب طلب کرنے دوقدم آگے بڑھا تھا

اوہ ہیلو یہ کیا ہو رہا ہے؟ خود کے سامنے تن کےکھڑے ہونے پر اسے ناگوار گزرا تھا تبھی سامنے کھڑی لڑکی نے اس سے دریافت کیا تھاا۔

آپ سے کچھ پوچھنے آیا ہوں امید کرتا ہوں سارے جوابات آپکے پاس ملیں گے لمحے بھر کی خاموشی کے بعد وہ خود کو کسی حد تک سنبھال چکا تھا جبکہ سامنے کھڑی لڑکی اسکے عجیب و غریب رویے پر حیران تھی ۔۔

کونسے سوالوں کی بات کررہے ہو ؟ وہ اس سے سوالات کا پوچھتے ہوئے اب ڈریسنگ کے سامنے کھڑی ہوئی تھی اور آہستہ آہستہ چوڑیاں اتارنے لگی تھی ۔۔

وہ بھی اس کے پیچھے جا کھڑا ہوا تھا اس بار بھی خاموشی تھی۔ جبکہ دوسری طرف اس کا چوڑیاں اتارتا ہاتھ تھما تھا

کیا ہوگیا بچے ؟

ایسے بیہیو

(behave)

کیوں کر رہے ہو؟

خود کے پیچھے آ کے کھڑے ہونےپر وہ پوچھے بنا نہیں رہ سکی تھی،چوڑیوں کو سائیڈ ٹیبل پر رکھے وہ اب مکمل اس کی طرف متوجہ تھی ۔۔

آآ-پ ایسے کریں آپ فری ہو جائیں میں یہیں بیٹھا ہوں وہ اب اس سے نظریں چراتا دو قدم چلتے ہوئے بیڈ پر آ کے بیٹھ گیا تھا جو کہ سامنے کھڑی لڑکی کو حیرت میں مبتلا کر رہا تھا آج سے پہلے تو اسنے ایسا برتاؤ نہیں کیا تھا جس سے اسے یہ لگے کہ سالار رضوی آج بھی پہلے کی طرح مزاق کر رہا ہے وہ اس کو وہیں چھوڑ منہ ہاتھ دھو کر قریباً پانچ منٹ تک اسکے ساتھ ہی بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی تھی۔

دونوں اب آمنے سامنے تھے

 فرق صرف اتنا تھا کہ ایک کی آنکھوں میں الجھن تھی تو دوسرےکںی آنکھوں میں سوالات کا جہاں

 بولو سالار!

 کمرے کی خاموشی کو سامنے بیٹھی لڑکی کی آواز نے توڑا تھا جو مسلسل اس کو خود کی طرف تکتا پاکر خود ہی بول پڑی تھی۔

کیا بولوں میں؟ آپ نے اس قابل چھوڑا ہےکہ بول سکوں؟

سوال کے بدلے سوال پوچھتا وہ اب سامنے کھڑی لڑکی سے مخاطب تھا جبکہ وہ تو انجان بنی اسے دیکھ رہی تھی 

کیا مطلب ہے تمہارا ؟ کیا کیا ہے میں نے؟ وہ حیرت زدہ سی اس کی عجیب بات پر مزید الجھی تھی۔۔

ذینی!!! آپ نے بتایا کیوں نہیں کہ آپکی انگیجمنٹ نیکسٹ منتھ ہے؟ وہ اس سے اب اصل مدعے پر آیا تھا جبکہ اس کے اداس ہونےپر زینی کا قہقہہ پڑا تھا

ہاہاہا تو میرا شیر اتنی سی بات پر پریشان ہے؟ وہ ہنستے ہوئے اب اس اسکی پریشان صورت کی بابت دریافت کر رہی تھی جبکہ اس کی ہنسی پر سالار کے دل میں ٹیس اٹھی تھی۔۔

بتائیں نہ؟ کیا آپ کی منگنی حسن بیگ کے ساتھ فیکسڈ کی ہے بڑے پاپا نے؟ اس کی ہنسی کو اگنور کیے پھر سے اسنے اپنا سوال بہت بے صبری سے دوہرایا تھا۔ 

ہاں جی؛

لبوں پر شرمیلی مسکان سجائے اسنے اثبات میں جواب دیا تھا جبکہ سالار رضوی کو لگا تھا کسی نے اس کے سینے پر بہت گہرا وار کیا ہے جس کی تکلیف شدت سے اس کے اندر ابھری تھی آنکھوں میں آئی نمی کو اسنے سختی سے آنکھیں بھینچے باہر آنے سے روکاتھا۔جبکہ وہ سالار رضوی کا اترا ہوا چہرا بہت گہرائی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

ادھر دیکھو میری طرف کیا ہوا ہے میری جان کو؟ وہ اب اسکے یخ بستہ ہاتھوں کو اپنے نرم ہاتھوں میں لیے اس سے پریشانی کی بابت دریافت کر رہی تھی وہ ایسی ہی تھی سالار رضوی پر جان قربان کرنے والی اسکی ہر جائز اور ناجائز خواہشات کو پورا کرنے والی،اس کی خاطر سب سے لڑ جانے والی ،وہ۔ایسی ہی تھی آنکھوں سے اس کی پریشانی کو بھانپنے والی پر ؟ آج وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی؟ یا سمجھنا نہیں چاہتی تھی؟  

جبکہ وہ تو بس آنکھوں میں نمی لیے اس کی طرف محو تھا

  

ذینی پلیز یہ شادی نہ کریں۔۔۔ وہ اب اس کی آنکھوں میں جھانکے اس سے شادی نہ کرنے کا کہہ رہا تھا جبکہ ذینی وہ تو اس کی بات سنے ٹھٹکی تھی

سالار یہ کیسی بچوں والی باتیں کر رہے ہو شادی تو ہونی ہے نہ اور ابھی شادی میں ٹائم ہے صرف بات پکی ہوگی تو تم ٹینشن نہ لو آئی نو کہ تم آج نہیں تھے پر میں جانتی ہوں میرے بھائی نے میرے لیے بہت کچھ سوچ رکھا ہوگا۔وہ اس کے عجیب سے رویے کے بارے میں یہی اخذ کر پائی تھی

 کہ شاید آج موجود نہ ہونے کی وجہ سےوہ ِِڈسہارٹ

ہے تبھی وہ اس کو چھوٹے بچوں کی طرح پچکارنے لگی تھی۔

نہیں یہ بات نہیں ہے بس آپ نہ کریں شادی پلیز نہ پلیز

وہ اسکی بات کی نفی کرتے ہوئے مزید اس کی منتیں کرنے لگا تھا جبکہ ذینی وہ حیران تھی اس کی اس بات سے۔۔

اچھا بتاؤ کیوں نہ کروں شادی؟ وہ اب اس کی نہ نہ کی گردان سے تنگ آ گئی تھی تبھی اس کے نہ کرنے پر اس سے سوال کیا تھا۔

کیونکہ لحظہ بھر کو وہ رکا تھا اور اس کی آنکھوں میں جھانکنے لگا تھا جہاں الجھن ہی الجھن تھی “کیونکہ میں آپ سے شادی کرنا چاہتا ہوں”

لمحے بھر کی خاموشی کے بعد سالار رضوی نے ذینش رضوی پر بم پھوڑا تھا، دماغ سائیں سائیں کرنے لگا تھا جبکہ آنکھیں مزید پھٹی تھی یہ کیا بات تھی جو سالار رضوی نے اس سے کہہ ڈالی تھی؟ یہ کونسا زخم تھا جو اسکے جان سے پیارے دوست،کزن اور بھائی نے بڑا گہرا دیا تھا

وہ بےیقینی کی سی کیفیت میں اس کو خالی خالی نظروں سے دیکھ رہی تھی اس کا اس طرح دیکھنا سالار رضوی کو پستیوں میں دھکیل رہا تھا.

ذینی!!!مسلسل خود کی طرف دیکھتا پاکر اس نے ذینش کا ہاتھ اپنے دل کے مقام پر رکھا تھا جہاں صرف پل بھر کا کھیل تھا جو ذینش کو ہلا کے رکھ گیا تھا۔۔

دیکھتے ہی دیکھتے ذینش کی آنکھوں سے گرم سیال بھل بھل بہہ نکلا تھا جو سالار رضوی کو شرمندہ کرنے کے لیے کافی تھاا

“میں مجبور ہوں ذینی میں نے لاکھ کوشش کی اس دل کو سمجھانے کی پر نہیں سمجھا پایا یہ بضد تھا ذینی اس میں میرا کیا قصور”

وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے اپنے جرم کا اعتراف کر رہا تھا جو سالار رضوی کے لیے نہ سہی پر ذینش کریم کے لیے ناقابلِ قبول تھا۔ 

س۔ا۔لار اتنی لمبی خاموشی کے بعد اس کے منہ سے سالار ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہواتھا جو سالار کو تکلیف میں مبتلا کر رہا تھا 

تم میرے ساتھ مذاق کر رہے ہو نا؟ وہ اب بھی اسکی اس بات پر یقین نہیں کرنا چاہتی تبھی وہ اس سے دوبارہ پوچھ بیٹھی تھی جبکہ سالارمزید شرمندہ ہوا تھا۔

آئی ایم سوری ذینی پلیز ایسے بیہیو نہ کریں میں آپکے ساتھ ایسا مذاق نہیں کر سکتا 

وہ اب کی بار قدرے اونچی آواز میں بولا تھا جس سے ذینی کا سکتہ لمحے بھر میں ٹوٹا تھااا

چٹاخ!!!!!!!! لمحے کے ہزاروے حصے میں اسکا ہاتھ گھوما تھا اور سالار رضوی کو بہت شدید پرا تھاا

بےیقینی سی بے یقینی تھی ذینش ابراہیم نے اسے تھپڑ مارا تھا۔جس کو آج تک وہ بچاتی آئی تھی آج کیسا ظلم وہ کر گئی تھی

تمہاری ہمت کیسے ہوئی سالار رضوی کے تم اپنی حدود بھولو آنکھوں میں آنسو لیے وہ غصے کی زیادتی سے سرخ ہو رہی تھی۔۔۔۔

تم!!!!!!!نکلو ابھی کے ابھی یہاں سے وہ اب اس کو مزید کچھ کہنے کے بجائے ہاتھ پکڑے دروازے تک لانے کے ناکام کوشش کر رہی تھی جبکہ سالار جانتا تھا اس سب کے بعد ذینش ابراہیم کا ردعمل سخت ہوگا وہ ناراض ہوگی وہ منا لے گا مگر اسکا ردعمل سالار رضوی کی سوچوں کےبرعکس تھا

ذینی میں ایسے یہاں سے نہیں جاؤنگا آپ جو بھی کہیں گی میں افف نہیں بولوں گا بس مجھے گارنٹی دے دیں کہ آپ اس رشتے سے انکار کر دیں گی

وہ وہی کمرے کے بیچوں بیچ کھڑا اب بھی اپنی بات پر قائم تھا جبکہ اسکی اس بات پر ذینش کو مزید تیش آیا تھا۔

سالار رضوی میں کہہ رہی ہوں یہاں سے دفعہ ہو جاو ورنہ بہت کچھ غلط ہو جائے گا ۔۔۔

اب کی بار وہ ہذیانی سی چیخی تھی جو کہ سالارکو ناگوار گزرا تھا۔۔۔

اس زیادہ اورآپ کیا غلط کریں گی کہ سالار رضوی کی ہونےکے بجائے کسی اور سے منسوب ہونے کا سوچ چکی تھیں کیا بلکہ سوچ چکی ہیں

وہ اب بھی لہجے کو حتیٰ الامکان سنبھالتے ہوئے ذینش رضوی کو سمجھانا چاہ رہا تھا جبکہ دل تھا کہ پھٹنے کے در پر تھا۔ذینش کو تو اسکی باتیں مذید صدمے سے دوچار کر رہی تھیں۔

کیا بدتمیزی ہے سالار بس کرو کیوں پریشان کر رہے ہو؟ وہ اب بھی سمجھنے سے قاصر تھی یا سمنجھنا نہیں چاہتی تھی آنکھوں سے آنسو رواں تھے وہ اس تلخ حقیقت کو جھٹلانا چاہتی تھی جو کہ اس کے لیے ناسور بن رہا تھا دل نے شدت سے دعا کی تھی کہ سالار رضوی کی باتیں محض مذاق ہو پر وہ مذاق کر ہی کب رہا تھا وہ تو بس اپنی کہے جا رہا تھااا یہ سوچے سمجھے بنا کہ ذینش ابراہیم کس طرح سہہ رہی ہے

دیکھیں ذینی!! وہ ابھی اور بولتا کہ ایک بار پھر ذینش ابراہیم کےتھپڑ نے اسکی زبان کو روکا تھاااااا۔

ذینی!!!!!صدمے سے دوچار ہوتے ہوئے وہ ذینش ابراہیم کو دیکھ رہا تھا کیا کچھ نہ تھا اسکی آنکھوں میں غصہ,نفرت حقارت جو کہ سالار رضوی کو تکلیف سے دوچار کر گیا تھا

کیا ذینی؟؟؟ ہاں کیا ؟ سالار رضوی ایک اور دفعہ بکواس کی نہ تو مجھ سے برا کچھ نہیں ہوگا 

وہ آنکھوں میں آنسوں لیے اسے بعض پرس کر رہی تھی پر وہ وہ بس خاموش تھا

دل میں بڑھتے درد کو لیے وہ وہاں سے چلا گیا تھا بنا کچھ سمجھائے اور وہ وہیں زمین لر بیٹھتی روتی چلی گئی تھی۔

 

Be sure to mention in the comments

Continued………………..

#novelmaster.org

 Read new rude hero based novel ,Rahay kyu faslay sada Darmiyan for this website #novelmaster.org, for more romantic urdu and English novel plzzz visit this site and give your feedback 

 

 

 

4 thoughts on “رہے کیوں فاصلے صدا درمیان New Romantic Novels,Heart touching romantic novel”

Leave a Comment