New Romantic Web special online urdu novels Rahay kyu faslay sada Darmiyan Darmiyan Epi_08

Online urdu novels رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

New Romantic online  Novels, New  Romantic  urdu Novels, Heart touching romantic urdu novels

رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

Websitehttp://Novelmasters.org

catagary:web special Romantic online novels

Heart touching rude hero based online urdu novels,new forced marriage based online urdu novels , Cruel hero based romantic online urdu novels is full of emotional, romance,thrill and suspens story of two girls who are friends ،who love each other very much.one is very quiet and patient.The other is fighting.one is sacrificing her life for her husband and the other is rejecting her husband.This story is all about hate and love.

وقت کا کام تھا گزرنا سو وہ اپنی رفتار سے گزر رہا تھا رضوی ہاوس میں اس وقت خوشی کی سی لہر پورے گھر میں دوڑی تھی وجہ زینی کا سالار کے لیے مان جانا ۔۔ سب اپنی جگہ ششدر تھے کوئی نہیں جانتا تھا آنے والا وقت کس اور رخ کرے گا مگر سب اس بات کو لے کر منفی سوچوں کو حاوی نہیں ہونے دے رہے تھے.

.دنیا ساری چھڈ کے چلیاں تیرے”

تیری راہوں تیریاں گلیاں تیرے صدقے،

“سب میں واریاں

گانے کے بول تھے یا کچھ سالار جو اس سے ملنے آیا تھا وہیں ساکت رہ گیا تھا ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے گلوکار نے اس کے دل کی بات بہت باریک بینی سے تراشی ہو جیسے گانے کے بول اس کے دل کی عکاسی پورے زور و شور سے کر رہے ہو

۔۔دنیا ساری چھڈ کے چلیاں

تیرے  پیچھے پیچھے تریا

۔۔تیرے صدقے سب میں واریاں

گانے کے بول اس کے بڑھتے دل کے شور کو مزید بڑھاوا دے رہے تھے۔۔۔ حواس جیسے مختل ہوئے تھے جو اسے پل میں مدہوش کر گئے تھے ابھی وہ تو اس کی دسترس سے دور تھی پھر ؟ پھر بھی ایسا اثر تھا کہ وہ اپنے حواس آہستہ آہستہ کھو رہا تھا،وہ تو تھا ہی اس کا دیوانہ پر یہ کیا تھا جو زینی

کو کسی طور نظر نہ ایا تھا

وہ دو قدم اگے بڑھا تھا اور ساونڈ کا ریموٹ اٹھایا اسے بند کرتا مکمل اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ گلابی رنگ کے فراق میں وہ سو گوار سے کرسی پر بیٹھے دوپٹہ سے نداراد آنکھیں بند کیے گانے کےبولوں میں مدہوش تھی خاموشی ہونے پر جھٹ سے اٹھی تھی اپنے سامنے سالار کو دیکھ اس کا پارا سوا نیزے پر ہوا تھا

اب کیا لینے آیا تھا وہ؟ اس کی بے بسی کا مذاق اڑانے ؟ منفی سوال سرعت سے اس کے ذہن میں ابھرے تھے۔۔۔۔ جو کہ اسے مزید اذیت سے دو چار کر گئے تھے

وہ سالار کو بنا جواب دیے قدرے پرے سے نکلنے لگی تھی کہ وہ سرعت سے اس کی کلائی تھام گیا تھا

اس کی جرآت پر زینی کا بدن تپنے لگا تھا ہاتھ پر جیسے چینٹیا رینگنے لگی تھی وہ غصے سے اسے دھکا دیتی قدرے فاصلے پر ہوئی تھی اور زور سے چیخی تھی۔

تمہاری ہمت کیسے ہوئی سالار رضوی کے تم مجھے ہاتھ لگاو؟ الفاظ میں واضح سردمہری تھی جو کہ سالار کو پل بھر میں اندر تک زخمی کر گئے تھے۔۔وہ تو زینی کا شکریہ ادا کرنے آیا تھا کہ وہ اس سے شادی کے لیے حامی بھر گئی تھی پھر یہ کیسا انداز تھا جو کہ سالار کو پل بھر میں ساکت کر گیا تھاخود کو کمپوز کرتے وہ دو قدم آگے زینی کے بالکل قریب ہوا تھا چند انچ کے فاصلے پر دونوں آمنے سامنے تھے

 اب کے بار سالار کے انداز میں سرکشی تھی جو کہ زینی کو حیران کر گئی تھی وہ بنا کچھ کہے رخ پھیرے وہی اس کے برابر کھڑی رہی تھی

“ہمت کی بات نہ کیا کریں زینی۔۔۔ آپ چاہے تو اس کے مظاہرے میں اچھے سے دیکھا سکتا ہوں مگر ابھی کوئی پرمانینٹ سرٹیفکیٹ ہاتھ نہیں آیا جس دن آیا اس دن آپ کو اپنی ہمت سے بھی روشناس کروا دیں گے”اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے وہ معنی خیزی سے بولا تھا جو کہ زینی کے لیے ناقابل برداشت تھی۔۔۔

تممممممممم

اسے مارنے کے لیے وہ غصے سے ہاتھ بڑھانے لگی تھی کہ سالار نے وہی ہاتھ جارحانہ گرفت میں لیا تھا”کتنی دفعہ بول چکا ہوں سالار رضوی پر ہاتھ اٹھانے کی گستاخی آج تک کسی نے نہیں کی تھی اور جانتی ہیں ایسی گستاخیاں آپ متعدد بار کر چکی ہیں”

ٹھنڈے ٹھار لہجے میں وہ اسے بہت کچھ باور کروا چکا تھا زینی تو اس کے تیور دیکھ ڈر چکی تھی دل جیسے پہلو میں دھڑکنے لگا تھا

دفع ہو جاؤ میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتی ۔۔۔۔۔ وہ اسے دھکا دیتی سائیڈ سے ہو کر بالکونی میں آئی تھی جبکہ اس کی بات پر سالار کے لبوں پر دھیمی معنی خیز مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی

دونوں بازوؤں کو سینے پر باندھے وہ بھی اس کی تقلید میں بالکونی میں آیا تھا

ہممم بات تو ٹھیک ہے!!!!! ابھی منہ لگنے کا پرمانینٹ گرانٹ نہیں ملا جیسے ملے گا آپ نہ صیحح میں خود لگ جاونگا۔۔۔۔۔

لبوں پر جلا دینے والی مسکراہٹ تھی آنکھوں میں چمک لیے وہ اسے ٹھٹکنے پر مجبور کر گیا تھا زینی کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ سی دوڑی تھی پاوں جیسے بے جاں ہوئے تھے کتنی بے ہودہ بات وہ کتنی آسانی سے کر گیا تھاا

زینی جلدی سے نکلی تھی کہ ایک بار پھر وہ اس کی راہ میں ہائل ہوا تھا ۔۔

پچھلے دس منٹ سے وہ زینی کو مسلسل زچ کر رہا تھا تھک ہار کر وہ غصے سے دیکھتی دو قدم اگے ہوئی تھی

کیا چاہتے ہو؟؟ آنکھوں میں آئی نمی کو پرے دھکیلتے وہ بےبسی سے پوچھ بیٹھی تھی۔۔

آپکو!!!! ظاہر ہے آپکے علاؤہ کسے چاہونگا.؟؟؟؟ دوبدو جواب دیتا وہ اس سے ایک اور سوال پوچھتا اسے آنکھ مارتا، کمینگی سے دانت نکالتا جاندار قہقہہ لگا گیا تھا جو کہ زینی کو ناگوار گزرا تھا

یہ سب کر کے تم مجھے تو پالو گے پر میرے دل کی سرزمین پر تمہارا قدم تک نہیں پہنچ سکتے۔اس دل میں کل بھی حسن امتیاز تھا آج بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔۔۔

جانے انجانےہر وہ سالار کی دکھتی رگ پر پاوں رکھ چکی تھی لبوں سے مسکراہٹ فورآ غائب ہوئی تھی اور آنکھوں کی چمک بھی ماند پڑی تھی جو کہ زینی نے بےساختہ نوٹ کیا تھا ۔۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ مسکرائی تھی

جبکہ سالار کچھ بولنے کے لیے لب کھولتا پر نداراد تھا۔ سیلنگ چھت کی طرف دیکھتا وہ اپنے غصے کو کنٹرول کرنے لگا تھا جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی ہو چکا تھا

“” یہ سب کر کے میں آپکو نہ صرف حاصل لونگا بلکہ انشاللہ آپکے دل میں جوتوں سمیت بڑی سرعت سے گھستا چلا جاونگا کہ آپ حق دق دیکھتی رہ جائیں گی””

اور رہی بات حسن امتیاز کی تو.؟؟؟؟.

وہ جو گمبھیر لہجے میں اس کو حرف با حرف باور کروا رہا تھا اب کی بار رکا تھا اور اس کے دو قدم مزید قریب ہوا تھا۔۔۔۔

آپکے دل میں اب وہ ہے یا نہیں مجھے سروکار نہیں ہے لیکن!!!!!! شادی کے بعد میری امانت میں ذرہ بھی خیانت کا کھوٹ شامل ہوا تو وہ تو جان سے جائے گا ہی لیکن زندہ میں بھی نہیں رہونگا اس بات کو جتنا جلدی ہو سکتا ہے ذہن نشین کر لیں۔۔۔۔۔

سرد اور ٹھٹھرا دینے والا لہجے میں وہ اسے بہت کچھ باور کروا چکا تھا جو کہ زینی کو منجمندکر گیا تھا چند پل اسے خاموش رہتا دیکھ وہ وہاں سے نکلتا چلا گیا تھا جبکہ زینی وہ وہی ساکت کھڑی خود کو بے ںس محسوس کر رہی تھی

آنکھوں سے گرم سیال بہتے اسے مزید تکلیف میں دھکیل رہے تھے۔۔۔۔۔۔

زندگی اسے کہاں لے کے جا رہی تھی سمجھ سے بالاتر تھا زینش ابراہیم کے ارمانوں پر پل بھر میں اوس پڑی تھی اسے یاد ہے کیسے اس کے پاپا آئے تھے۔۔

کچھ دن قبل…………….

زینی بیٹے۔۔۔۔ وہ جو گھٹنوں پر سر رکھے اداس مورت بنے بیٹھی تھی اپنے پاپا کی آواز سے چونکی تھی سمجھ گئی تھی اس کی روح کا پروانہ اسے ملنے والا ہے ابھی تو ٹھیک سے وہ ماتم نہیں کر پائی تھی ابھی تو وہ حسن کے دیے گئے زخموں کو سنبھالے ہوئے تھی جس میں سے رفتہ رفتہ لہو رس رہا تھا ۔دل تو زخموں سے چور تھا اور وہ خود ؟؟ وہ تو اندر سے مر سی گئی تھی۔سالار سے اسے نفرت سی ہو رہی تھی بےبسی سے بے بسی تھی جو کسی طور اس کو بےچین کیے ہوئی تھی

جی جی پپا…….!!!!! دوپٹہ سنبھالتے وہ اٹھی تھی اور انکے روبرو تھی آنکھیں ہنوز جھکی ہوئی تھیں ۔۔۔

سوجی ہوئی لال متورم آنکھیں ۔ستا ہوا چہرا لیے انہیں نے بہت گہری نظروں سے دیکھا تھا۔۔

آؤ ادھر !!! اپنے بازوؤں کے حلقے میں لیے وہ اسے صوفے تک لائے تھے اور ٹیبل پر رکھے ہوئے جگ میں سے گلاس میں پانی ڈالا اسے پکڑایا تھا ۔۔

مطلب واضح تھا خود کو پر سکون کرو

زینی نے خاموشی سے پانی لیا دوگھونٹ پیا اور گلاس ہاتھ میں پکڑ لیا تھا

آپکو پتا ہے میں یہاں کیوں حاضر ہوں؟؟؟؟ وہ جو باپ بیٹی خاموش بیٹھے تھے یک دم پپا کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی کہ لبوں پر تلخ مسکراہٹ نمودار ہوئی تھی ۔۔۔

جانتی ہوں کیوں آئے ہیں!!!!!!!! لفظوں میں واضح طنز تھا جو کہ ابراہیم رضوی نے اچھے سے محسوس کیا تھا

تو پھر کیا سوچا!!!!!! ایک اور سوال انہوں نے کیا تھا

وہی جو آپ لوگوں نے میرے لیے منتخب کیا.۔۔۔۔ دوبدو جواب دیتی اب وہ آنسو پینے لگی تھی۔۔۔۔۔

زینی بیٹا وہ ایک بار اسے سمجھانے لگے تھے سوری پپا گستاخی معاف مگر جائیں اور جا کر اپنے گھر والوں کو بتا دیں زینش ابراہیم اپنے باپ کے لیے کچھ بھی کر سکتی ہے چاہے تو خود کو بھی نیلام کر سکتی ہے جائیں جا کر سنادیں خبر زینش ابراہیم لٹ سکتی ہے لیکن اپنے باپ کی آنکھوں کے پیغام کو رد نہیں کر سکتی روندھے ہوئے لہجے میں وہ اپنی بات کہتے کھڑاک سے باتھروم میں بند ہو گئی تھی اپنے اور پپا کے درمیان اول روز سے سردمہری زینش کی وجہ سے چل رہی تھی کیا پپا میری محبت نہیں دیکھ پائے تھےسالار رضوی تم بہت بےدید نکلے مجھ سے میرے گھر والے اور میرے پیارے پپا چھین لیا تم نے اپنی ضد کی وجہ سے نہ صرف مجھے بلکہ میرے کردار کو بھی نشانہ بنایا ہے۔۔

آئی_ہیٹ_یو سالار رضوی

 روتے ہوئے وہ بیٹھتی چلی گئی تھی کسی نہ اس بات پر غور نہ کیا تھا کہ کس طرح وہ اندر اندر گھل رہی سب تو سالار کی محبت میں اس قدر محو تھے کہ زینش کی اجڑتی دنیا کا کسی کو شائبہ تک نہ ہوا تھاا

وہ رو رہی تھی مسلسل رو رہی تھی پر وہ کیوں رو رہی تھی؟؟؟؟ گھر والوں کی بے حسی پر؟ یا اپنے لٹ جانے پر؟ یا اس شخص کے کھو جانے پر جو اس کے سب سے قریب تھا آہ کاش زینش ابراہیم تم بد صورت ہوتی؟؟؟؟ کتنی آسانی سے وہ یہ سب کہہ رہی تھی

کتنا کرب تھا اس کی آواز میں پچھلے کچھ دنوں میں وہ مسلسل خاموش تھی گھر پر جو بھی اس سے بولتا اس کا جواب دے دیتی مگر خود سے مخاطب کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔جب کوئی بات ہوتی تو سب ہنستے اور وہ جبراً مسکرا دیا کرتی تھی

سب اس کی خاموشی کو بہت گہرائی سے محسوس کرتے تھے مگر خاموش تھے سب کا ماننا تھا سالار کے رنگ میں رنگے گی تو خود ہی پہلے جیسی ہو جائے گی مگر سب کی غلط فہمی وہ بہت جلدی ختم کرنےوالی تھی۔

Continue……

NovelMasters.org online Urdu Novels is an institution where you can read rude hero based online Urdu Novels, cousin marriage based online Urdu Novels, strict heroine based Urdu Novels.All kinds online Urdu Novels are available here!

For more interesting stories Click Here 

1 thought on “New Romantic Web special online urdu novels Rahay kyu faslay sada Darmiyan Darmiyan Epi_08”

Leave a Comment