New Romantic web special Online urdu novels Rahay_kyu faslay_sada_Darmiya, online urdu novels Epi_07 web special online urdu novels

Online urdu novel رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

Online urdu novels,Rahay kyu faslay sada Darmiyan New online urdu Novels, Heart  touching  Romantic online urdu  novels Online urdu novels Romantic Novels, Heart touching romantic  online urdu novels

رہے کیوں فاصلے صدا درمیان 

      Websitehttp://Novelmasters.org   catagary:web special online urdu novels, New Romantic online urdu novels

Heart touching rude hero based online urdu novels new forced marriage based online urdu novels , Cruel hero based romantic online urdu novels is full of emotional, romance,thrill and suspens story of two girls who are friends ،who love each other very much.one is very quiet and patient.The other is fighting.one is sacrificing her life for her husband and the other is rejecting her husband.This story is all about hate and love

ناول: رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

ازقلم:زوبیہ شیخ

قسط_نمبر06

تم نے پھینکا تھا ؟۔ غصے کی زیادتی سے وہ دھاڑا تھا جبکہ وہ تو اپنا کیچر اس کے ہاتھ میں دیکھ چند پل ساکت ہوئی تھی اس کی ذہن پر دھماکا ہوا تھا لبوں سے الفاظ نکلنا مشکل سے ہو گئے تھےایسے چھچورے ،دونمبر اور گھٹیا ترین کام میں اپنے گھر میں برادشت ہرگز نہیں کرونگا سمجھیں تم اس نے غصے سے کیچر زمین پر مارا تھا اور غصے سے اسے شانوں سے پکڑے دھاڑا تھا میں تمہیں کس زبان میں سمجھاوں کہ تم اور تمہاری یہ گھٹیا حرکتیں مجھے کس قدر زہر لگتی ہیں آخر سمجھتی کیا ہو تم خود کو ؟؟ہو کیا تم؟؟؟؟ اوقات کیا ہے تمہاری؟ اس قسم کی چھچوری اور گھٹیا حرکتیں کر کے تم ثابت کیا کرنا چاہتی ہو کہ تم مجھے خود کی طرف مائل کر سکو گی..؟؟نہیں  دانین مراد !!!!!! تم اس ایسا کر ہی نہیں سکتی ؟؟؟ ہر مرد کو تم مائ نہیں کرسکتا نہ ہی ہر مرد تمہارے حسن پر جان وار ںیٹھے گا ۔۔ تم حیدر علی مرتضیٰ کو اپنا اسیر کر ہی نہیں سکتی.؟؟؟ “اور پھر بھی تمہیں لگتا ہے کہ تم ایسا کر سکتی ہو تو تم دنیا کی احمق ترین عورت ہو جسے خود پر بہت غلط فہمیاں لاحق ہیں “جبکہ وہ؟؟؟؟؟؟؟ کس قدر اذیت سے پھٹی پھٹی ۔نگاہیں اٹھائے اسے تک رہی تھی !!! تنہا بنجر زمین میں چھوڑ دیا ہے”لاوارث”جس کا سب کچھ ہوتے ہوئے بھی نہ ہو؟؟ آہ کیسی اذیت سے دوچار کر گیا تھا وہ شخص جس کی اندام الطفات کے لیے کیا کیا جتن وہ کرتی ائی تھی ۔ سفر پھر سے اپنی مشل بڑھا چکا تھاوہ نہایت سختی سے اسے کانٹوں پر گھسیٹ لایا تھا۔۔شانوں پر گرفت مظبوط ہوتی جا رہی تھی وہ اس کی جارہانہ گرفت کو نظر انداز کیے حیرانگی سے تکتی جا رہی تھی اس کے لبوں سے نکلا ایک ایک لفظ دانین کو زہر الود تیر کی مانند لگا تھا جو اس کے دل میں پیوست ہوتا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔سفید شرٹ پہنے اپنے سے دو قدم دور وہ شخص اسے میلوں کے فاصلوں پر لگا تھا۔۔۔ وہ حیرت میں ڈوبی یک ٹک اسے تکے جا رہی تھی اس کی سماعتوں میں ایک ہی لفظ کی بازگشت ہو رہی تھی ۔۔۔

دانین مراد….!!!؛!!!!!!! یعنی وہ شخص خود کا نام بھئ اس کے ساتھ لگانے کا روادار نہیں تھا۔۔ حیدر کے ساتھ اس رشتے میں اسے کیا ملا تھا؟؟؟ وہ تو پہلے دن کی طرح آج بھی خالی ہاتھ تھی۔۔۔ دانین مراد تم تو بڑے دعوے سے کہتی تھی اپنی محبت میں ڈھال لو گی؟ پر کیا ہوا ؟؟ رہ گئی نہ تم تہی دامن؟ بن گئی نہ پھر سے دانین مراد؟؟؟
اسنے جیسے خود سے سوال کیا تھا سوال تھا یا سوالات کا جہاں ؟؟؟؟؟ جو مزید بڑھتا جا رہا تھا؟ شانوں پر بڑھتی مزید پکڑ سے اتنی تکلیف محسوس نہیں ہو رہی تھی جتنی اس شخص کی اجنبیت پر ہوا تھا۔۔
ایسا لگ رہا تھا آسمان سر پر آن پڑا تھا یا کسی نے چلتے ہوئے اس کے پاسں سے زمین کھینچ لی تھی کتنا تکلیف دہ لمحہ تھا اس پل جب وہ بارش میں یادیں بنانا چاہتی تھی اور ایسی یاد اس کے لیے بنی تھی جو جب جب اسکے ذہن کے پردوں پر لہرائے گی تب تب اس کے زخموں سے خون رسنے لگے گاروانی سے تیز بہتے آنسوں بارش کے قطروں میں مل کر اپنی پہچان بہت سرعت سے کھو رہے تھےوہ ایک لفظ بھی نہ بولی تھی بولتی بھی کیا؟؟؟ حیدر نے کچھ چھوڑا تھا بولنے کے لیے؟؟ جبکہ وہ بھی اس کو بولنے کا موقع دیے بنا وہاں سے پلٹا تھا کہ اس کی طرف فوراً مڑا تھا اس نے ایک بار پھر امید بھری نظروں سے اسے دیکھا تھا شاید تھوڑا رحم آ جائے؟؟ کیا وہ اس قابل بھی نہیں تھی کہ تھوڑی نظر کرم مل سکے ؟؟؟؟بال نکالو اپنے میری شرٹ سے!!!! وہ جو ایک بات پھر جو خوش فہمی میں مبتلا ہوئی تھی فورا سے گری تھی پلٹا بھی تو وہ اپنی بےزاری کی وجہ سے۔دبے دبے غصے میں وہ دانت پیستے گویا ہوا تھا۔۔۔
اسنے شرمندگی سے نظریں جھکا لی تھی اور کانپتوں ہاتھوں سے اس کے حکم کی تکمیل کرنے لگی تھی گیلے بال مسلسل بھیگنے کی وجہ سے مزید الجھ رہے تھے اور کچھ بارش اور کچھ رونے کے باعث اس کی آنکھیں دھندلا رہی تھی حیدر کوفت اور غصے سے اسے گھورے جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔
جبکہ وہ یہ کام جلد از جلد کرنا چاہتی تھی تاکہ حیدر اسے مزید نہ سنا سکے!!!! دونوں مسلسل بھیگ رہے تھے جلدی نکالو !!!! مجھے مزید نہیں بھیگنا!!!!! ایک اور کرخت آواز اسے سنائی دی تھی جو کہ اسے مزید پستیوں میں دھکیل رہی تھی۔۔۔
اور روہانسا ہوئی تھی ۔۔۔اماں بی ____اماں بی ؟؟؟ اس نے وہی کھڑے اماں بی کو آواز دی تھی اماں بی کو باہر اتا دیکھ وہ جلدی سے دوبارہ بولی تھی قینچی لائیں اس نے چونک کر دانین کی طرف دیکھا تھا چندلمحوں بعد قینچی حاضر تھی ۔۔ وہ سمجھ چکا تھا کیوں منگائی ہے مگر لب ہنوز پیوست تھے ۔۔ اس کی لاپرواہی دانین کو مزید رولارہی تھی
وہ جو قینچی کھولتے کاٹنے لگی تھی حیدر کی گرفت میں قینچی دیکھ چونکی تھی
دماغ ٹھیک ہے تمہارا؟؟ پاگل ہو کیا؟ یہ۔کیا بیوقوفی کرنے جا رہی ہو؟؟؟؟؟وہ ایسے کہہ رہا تھا جیسے کچھ دیر پہلے ان دونوں نے۔محبت میں بھیگتے بارش کے قطروں کو انجوئے کیا ہو اور اب وہ اس کے بال کاٹنے پر ڈانٹ رہا ہو دانین نے چونک کر دیکھا پھر غصے پر اس پر چلائی تھی آپکو اس سے کیا ہے یہ دانین مراد کے بال ہے چاہے کاٹے یا کچھ بھی کرے آپ کو کیا!!!!!!!!؟؟؟؟پہلی دفعہ وہ اس پر بھڑکی تھی جبکہ حیدر تو اس کے ردعمل پر حیران تھا اج سے پہلے تو کبھی اس نے اس طرح نہیں کیا تھا؟اور حیدر؟ اس کو غصہ کس پر آ رپا تھا؟؟؟ دانین کے بھڑکنے یا بال کاٹنے پر؟ اپنے کیفیت پر وہ خود حیران تھا ۔۔۔۔۔۔۔

کہہ تو ٹھیک رہی تھی اس کے بال وہ جو بھی کرے مگر اسے کیوں غصہ آ رہا تھا جسےوہ سمجھنے سے قاصر تھادانین نے اسے خاموشی کی نظر ہوتے دیکھا تھا آنسوں میں مزید روانی آئی تھی ایک بار پھر اسنے اس کے ہاتھ سے قینچی نکالنے کی کوشش تھی جو کہ حیدر نے غصے سے کھینچتے دور پھینکی تھی جلد بازی میں کھینچنے کے چکر میں وہ دانین کو ایک اور اذیت دے گیا تھا جسے دانین نے فورآ دبا لیا تھا اس نے آرام سے بال نکالے تھے ایسے جیسے اس کے اپنے بال ہو۔۔وہ مسلسل کھڑی آنسو بہا رہی تھی۔۔۔۔وہ کس لیے رو رہی تھی؟؟؟ حیدر کی کڑوی باتوں پر یا اس کے ساتھ بارش انجوائے نہ کرنے پر؟؟؟
حیدر نے بہت گہری نظروں سے اس کی طرف دیکھا تھا!! پھر اس کے چہرے سے پھسلتی لٹوں سے ہوتے ہوئے اس کے ہاتھ پر جا ٹھہری تھی جہاں بارش کی بوندوں کے ساتھ رفتہ۔رفتہ بہتا خون زمین پر گر رہا تھا۔ پہلے تو نہ سمجھی سے دیکھنے لگا تھا پر سمجھ اتے ہی شرمندگی کے گڑھے میں خود کو گرتا محسوس کر رہا تھا
جبکہ وہ بےحس بنی اس درد کو لیے خاموشی سے روئے جا رہی تھی۔۔وہ کیوں برداشت کر رہی تھی ؟؟؟ یہ سوال بڑی سرعت سے اس کے دماغ میں ابھر تھا۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر اسکا ہاتھ تھاما اور زخم پر انگوٹھا رکھے وہ اسے کھینچتے اندر لایا تھا اور صوفے پر قدرے پٹختے ہوئے بٹھایا تھا اور خود فرسٹ ایڈ باکس لانے گیا تھا ۔۔۔
چند پل گزرے تھے کہ وہ ہاتھ میں بوکس لیے اتا نظر ایا تھا اور خاموشی سے بیٹھتے پٹی کرکے اسے دیکھنے لگا تھا اس کا ہاتھ ابھی تک حیدر کے ہاتھ میں تھا چند لمحے دیکھتا رہا پھر اس کا ہاتھ گود میں رکھتا کھڑا ہوا تھا تھا اور کمرے میں آیا تھا
نظروں کے سامنے اس کے ہاتھ سے نکلتا خون تھا جو اسے مضطرب کر رہا تھا
کیوں حیدر کیوں!!! کیوں تو اپنے غصے پر قابو نہیں رکھ سکتا کیوں تو آپے سے باہر ہو جاتا ہے؟؟؟؟ وہ مسلسل خود سے سوال کر رہا تھا جو اسے کسی طور چین نہیں لینے دے رہا تھا۔کھڑکی کے پاس کھڑے وہ مسلسل بارش کے قطروں کو زمین پر گرتے دیکھ رہا تھا یک دم دل ہر چیز سے اچاٹ ہو تو وہ کھڑکی سے پرے ہوا تھا اور کمرے میں چکر لگانے لگا تھا۔۔۔”یہ ہماری شادی شدہ زندگی کی پہلی بارش ہے جو میں ہم دونوں کے لیے ہمیشہ کے لیے یادگار بنانا چاہتی”” آواز کی بازگشت اس کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی جو اسے بے چین کر گئی تھی
“اور ایسے بہت سے موسم جو ہماری لیے خوشگواری لیے حاضر ہونگے ان کو آپ کے ساتھ انجوائے کرنا چاہتی ہوں جو حال میں ہم دونوں کے لیے انت_ الحیاۃ کی طرح قائم رہے”

کچھ دیر کی دانین کی کہی بات نہیں اسے مضطرب کیا تھا دل تھا کا ڈوبتا چلا جا رہا تھا ۔۔۔کتنی سچائی ،اپنائیت اور محبت سے اس نے حیدر کی طرف دیکھتے کہا تھا!!!!!!اور حیدر؟ اس نے کیا کیا تھا؟ اس کی امید بھری نظروں اس کی محبت کو اپنے قدموں تلے کیسے روندھا تھا؟؟؟

وہ حقیقت پر اپنے کیے گئے عمل پر خود کو شرمندگی کی اتہ گہرائیوں سے گرتا محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔ ہاں وہ ہرگز بھیگنا نہیں چاہتا تھا نہ ہی وہ دانین اور خود کے لیے یہ بارش یاد گار بنانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

مگر اس نے یہ ہرگز نہیں سوچا تھا کہ دانین کی انجوائمنٹ کو خراب کرے ۔۔ مسلسل سوچوں کے تضاد نے اس کے دماغ پر پہرا کیا تھا۔ دماغ کو جھٹکتے وہ وہ الماری کی طرف بڑھا تھا اور کپڑے لیے گھسا تھا۔۔۔

_____________________________
اس نے اپنے پٹی والے ہاتھ کو دیکھا تھا تو مزید رونا آیا تھا۔۔۔۔۔وہ ہاں سے اٹھی تھی اور ہاتھ سے انسو پونچھتی اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔۔۔پیچھے اماں بی نے آنکھوں میں آئی نمی کو صاف کیا تھا وہ جانتی تھی حیدر اور دانین کمرے میں بند ہوئے تو اب رات گئے کھولیں گے وہ دانین کی دائمی خوشیوں کے کیے دعا کرتی اپنے کوارٹر کی طرف چل دی تھی پیچھے دانین کا رو رو کے برا حال تھا اس نے سوچا تھا یہ بارش اس کے لیے انوکھی ثابت ہوگی مگر اس قدر انوکھی ہوگی اسنے سوچا نہ تھا۔۔۔
مسلسل پھٹتا دماغ اس کے اعصاب کو بری طرح چٹخ رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ وہ اٹھی تھی اور نہانے کی غرض سے واش روم بند ہو گئی تھی۔۔۔۔
یہی

Be Sure to mention in the comments
Continue ……
#novelmaster.org
Read new rude hero based online urdu novels,Rahay Kyu faslay sada Darmiyan for this website #novelmasters.org,for more romantic  online Urdu novels and online English novels  please visit this site and give your feedback.

Novel Master Online Urdu Novels is an institution where you can read rude Hero based Online Urdu Novels, Cousin Marriage Based Online Urdu Novels, Strict Heroine Based Online Urdu Novels, Age Difference Online Urdu Novels. All kinda online Urdu novels are available here!

Online urdu Novels, New Romantic online urdu novels,cruel hero based online urdu novels , contract marriage based online urdu novels

For more interesting stories Click Here 

https://youtube.com/channel/UCKFUa8ZxydlO_-fwhd_UIoA

Leave a Comment