Rahe kyun Faslay Sada Darmiyan Episode 1

Novel Name: Rahe Kyun Faslay Sada Darmiyan Episode 1

Writer Name: Zubia Sheikh

Category: Rude Hero, Cousin Marriage Based, Age Difference, Romantic Novel.

ہر روز کی طرح اس کی آنکھ جلدی کھل گئی۔ پر وہ کسملندی سے ویسے ہی لیٹی رہی ۔کمرے میں اندھیرا تھا یعنی دن ابھی پوری آب و تاب سے نکلا نہیں تھا.

وہ منہ پر کمبل ڈال کر ویسے ہی کشن کو سینے سے لگائے لیٹی رہی اور اپنی زندگی کے ان رنگوں کو یاد کرنے لگی تھی جہاں اس کی زندگی پر سکون تھی اسکے امی پاپا کا گھر،اسکی خوشیوں کا سمندر۔

خوش تو وہ اب بھی تھی کیونکہ صبر کا پہلا گھونٹ وہ بھر چکی تھی اب اسکو یہ دیکھنا تھا کہ کب تک صبر اسکے دامن کو تھامے رکھتا ہے۔ہر روز کی طرح آج بھی وہ اپنی ماضی میں کھوئی ہلکا سا مسکرائی ٹائم دیکھا تو اٹھ کھڑی ہوئی پہلے تو اسکی مما اسے زبردستی اٹھایا کرتی تھی اور وہ منہ کہ الٹے سیدھےایسے زاویے بنایا کرتی کہ مما کو اس پر بےتحاشہ پیار آتا تھاااا۔ 

 پھر وضو کرنے کے بعد دوپٹے کو نماز کی اسٹائل میں کیے وہ باہر آئی تھی نماز سےپہلے ایک اور ضروری کام تھا جو اسے ہر حال میں کرنا تھا۔اس کے کمرے کے متوسط سائیڈ دوسرا کمرا تھا اس نے جلدی قدم بڑھائے اور کمرے کے بولٹ پر پاوں مارا تو دروازہ ہلکی سی آواز میں کھلتا چلا گیا اور پچھلے چار ماہ کی طرح آج بھی وہ ہلکا سا مسکرائی

اس نے احتیاطً اندر جھانکا جو مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا کیونکہ اتنا تو وہ جان گئی تھی کہ حیدر کو گپ اندھیرے میں نیند آتی تھی

سو وہ آگے بڑھی اور اپنی مطلوبہ چیز تلاش کرنے لگی اندھیرا کے باعث دیکھنے میں تھوڑی مشکل ہوئی پر تھوڑی تگ ودو کے بعد وہ چیز سائیڈ ٹیبل پر پڑی نظر آئی تو اسکی مسکراہٹ میں مزید اضافہ ہوا

چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ حیدر کے قریب آئی اور خود سے ہمکلام ہوئی۔۔

افف!! لارڈ صاحب سوتے ہوئے کتنے پیارے لگتے ہیں اب دیکھو کتنے مزے سے خواب خرگوش کے مزے لے رہےہیں میں بھی دیکھتی ہوں اب مزید کیسے سوتے ہیں۔۔

وہ چھوٹے بچوں کی طرح اندر ہی اندر خوش ہوتے ہوئے گھڑی پر 3 منٹ بعد کا الارم لگا کر سائیڈ ٹیبل کے نیچے رکھا اور اپنی کارستانی کے بعد کا سوچتے ہوئے وہ الٹے قدموں چہچہاتی ہوئی نماز پڑھنے کے لیے نکلی تھی۔۔۔

ٹھیک تین منٹ بعد الارم کی چنگھاڑتی ہوئی آواز نے اسکی نیند میں خلل ڈالا تھا جو اسکے سر میں ہتھوڑے برسا رہی تھی ایک ہاتھ سے وہ کان پر تکیہ رکھتے ہوئے اور دوسرے سے وہ گھڑی تلاش کر رہا تھا

مسلسل بجتے الارم نے اس کے اعصاب کو بری طرح چٹخا تھا۔ سرخ آنکھیں مزید انگارہ ہوئی تھی شعوری طور پر احساس ہوا کہ آواز کہاں سے آ رہی ہے تو اسکے ماتھے پے انگنت بل آئے پھر ہر بار کی طرح اس بار بھی اپنی بیوی کا سوچتے ہوئے اس کو بے حد ناگواری ہوئی۔۔۔

اففففف مییرا سر!!!! دونوں آنکھوں کو انگلی کے پور سے دبایا جس سے تھوڑا افاقہ ہوا پر نیند پوری نہ ہونے کے باعث اس کے سر میں ٹیس اٹھی تھی جو نہ قابل برداشت تھی۔۔ نیند اب اسے آنی نہیں تھی سو مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق وہ اٹھا تھا اور وضو کرنے کے بعد مسجد روانہ ہوا۔۔۔

اففف حیدر زندگی ایسی بھی ہوگی کبھی سوچا نہ تھا وہ نماز پڑھ کے فری ہوا اور گھر آ کر لان میں چہل قدمی کرتے ہوئے مسلسل خود سے ہمکلام تھا

زندگی اس نہج پر پہنچے گی میں نے سوچا نہیں تھا اعصاب پر منفی سوچ اور خود ترسی کا دباؤ بڑھا تو وہ وہیں سائیڈ جھولے پر آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔

وہ نماز پڑھ کے فری ہوئی تو کمرے سے ملحقہ بالکونی پر گیلا تولیہ ڈالنے کی غرض سے ریلنگ پر جھکی پر باہر کا منظر دیکھتے ہوئے اسے خوشگوار حیرت ہوئی۔ 

آج صبح صبح کا آغاز اسکی محبت سے ہوا تھا بے ساختہ اسنے آسمان کی طرف جھلمل کرتی آنکھوں سے دیکھا اور الحمدللہ کیا تھا

وہ بڑے تھکے انداز میں جھولے پر آنکھیں موندے جھول رہا تھا اور وہ بس اپنے شریک حیات کو نہارے جا رہی تھی

وہ ایسی ہی تھی اس کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبے اپنے ساتھ کی گئی ذایادتیوں کو ہمیشہ فراموش کر دیاکرتی تھی 

 وہ اسکو جتنا دیکھتی تھی اس کے دیدار کی طلب مزید بڑھنے لگتی تھی ہر بار کی طرح دل نے دو سو کی اسپیڈ پکڑی بے ساختہ وہ مڑی تھی اور لان کی طرف چل دی 

تقریبآ ایک منٹ بعد وہ اسکے سامنے تھی مسلسل نظروں کی تپش نے حیدر کو بے چین کیا تو اسنے جھٹ سے آنکھیں کھولی جو مسلسل اپنی نظریں گاڑھے اسکو دیکھ مسکرا رہی تھی پہلے پہل حیدر حیران ہوا پھر اسکی حیرانگی نے غصے کی شکل اختیار کی تھی جو سامنے کھڑی لڑکی نے بخوبی نوٹ کیا تھا ۔۔ مسلسل خاموشی سے وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ایک کی آنکھوں میں عشق میں ٹھاٹے مارتا سمندر تھا تو دوسرے کی آنکھ میں ناگواری تھی  

خود پے نظریں گڑھی دیکھ حیدر کے غصے میں مزید اضافہ ہوا تھا جو اسنے اپنے لفظوں سے ظاہر کرنا مناسب سمجھا تھاااا

کیا مسئلہ ہے کیوں صبح صبح اپنی شکل میرے سامنے لیے کھڑی ہو؟ جاو یہاں سے لہجہ کو سخت اور ناگواری پر قابو پاتے وہ دبے دبے غصے میں دھاڑا تھا ۔

وہ اس کے لہجہ پر لمحہ بھر کے لیے سہمی تھی پھر حسب عادت وہ اس کی ڈانٹ سنے مسکرائی تھی جبکہ اس کی مسکراہٹ نے جلتی پے کام کیا تھا ابھی وہ الارم والی کارستانی نہیں بھولا تھا جس سے اس کو شیدید چڑ ہو رہی تھی کجا اس کا سامنا وہ مزید بھڑکا تھا اسکے رویے پرماتھے پر ناگواری کا جال بنتا جا رہا تھا اور رگیں تنے اسے خون آشام نظروں سے گھور رہا تھا

 ایک قدم چلتی وہ قریب ہوئی تھی اور حیدر کے ماتھے کے بلوں پر انگلی پھیری جیسے اسکے ماتھے پر یہ جال اسے ایک آنکھ نہ بھایاہو جبکہ وہ تو اس کی اس جرأت پر حیران تھا دل تھا کہ اس لمس سے پگھل رہا تھا پر دماغ نے جیسے دل کو مات دیتے ہوئے اس لمس کو محلول کیا تھا سیکنڈز کے ہزاروے حصے میں دل نے کروٹ بدلی اور دماغ حاوی ہوا تھا اس کا ہاتھ جھٹکے وہ دو قدم پیچھے ہوا پھر اسے نفرت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ اندر کی طرف بڑھا تھا

 پیچھے وہ وہیں جھولے پر نظریں گاڑھے کھڑی تھی جیسے اسکی موجودگی محسوس کرنا چاہ رہی ہو اس کی محویت کو ابہیہا کی اواز نے توڑا تھا ۔۔۔

بھابھی بھابھی !! وہ دور سے پکارتے ہوئےاب اس کے پاس پہنچ چکی تھی 

آں_ہاں!!سکتہ ٹوٹا تو وہ ابیہہ کی طرف متوجہ ہوئی جو اب اس تک پہنچ چکی تھی

 کیا کہہ رہی ہو خور پر کسی حد تک قابو پاتے ہوئے وہ قدرے مسکراتے ہوئے گویا ہوئی 

ارے میری پیاری بھابھی جان ماما اندر بلا رہی ہیں اور حیدر بھائی تو کب سے چلے گئے آپ یہاں کھڑی کسے تک رہی ہیں

 پہلے وہ اس کو بلاوا دینے دوسرا اسکو چھیڑتے ہوئے اس کے ساتھ چپکی تھی جبکہ اس کی شرارت پر وہ کھکھلا کے ہنسی تھی۔

گندی بچی!وہ ابیہہ کی سر پے چپت لگاتے اندر کی طرف چل دی تھی۔

اسلام علیکم مما(ساس)! اندر داخل ہوتے ہوئے قدرے اُسنے اونچی آواز میں ہشاش بشاش مسکراتے ہوئے سلام کیا تھا جبکہ اسکے اس انداز پر مما(ساس) ہمیشہ مسکراتے ہوئے بلائیں لیتی تھی۔۔۔

ہاہاہاہا مما آپ کو دیکھ مجھے بہت ہنسی آتی ہے بھلا ساس بہو میں اتنی محبت کیسے ہو سکتی ہے ؟ ہائے رے میں کتھے جاوا؟؟

ابہیہ نے ہنستے ہوئے مذحقہ خیز دہائیاں دی جس سے دانین کی کھلکھلاہٹ پورے لاونچ میں گونجی جو حیدر کی سماعتوں میں بخوبی پہنچی ۔

اسے دانین کو دیکھ کے حیرانی ہوتی تھی کیسے وہ اس کی ڈانٹ پھٹکار سیکنڈز میں بھول کر ہنسنے بولنے لگتی تھی جبکہ وہ اسکو ڈانٹ کر ہمیشہ ہی مضطرب ہو جایا کرتا مسلسل محویت سے دیکھتے ہوئے دماغ نے قہقہہ لگایا(ہاہاہاہاہاہا)

 دھوکے باز ہے وہ اس کی معصومیت کے دھوکے میں نہ آنا اپنے اندر کہیں آواز گونجی تو اپنے دل کو لعنت ملامت کرتے وہ اگے بڑھا تھا اور مما کو سلام کرتے آفس کے لیے نکلا تھا جبکہ اس کو جاتا دیکھ دانین کو دکھ ہوا وہ ناشتہ کیے بِنا جا رہا ۔۔۔

حیدر حیدر 

وہ پورچ تک پہنچا تو دانین کی آواز اسکی سماعتوں سے ٹکرائی جس سے اسکے ماتھے پر انگنت بل آئے جس نے اسکو مزید تیش دلایا وہ اس ٹائم کوئی سین کریٹ نہیں کرنا چاہتا تھا وجہ اندر بیٹھی مما اور ابیہہ تھی

حیدر مڑا نہیں تھا پر وہی رک گیا وہ ہانپتی ہوئی جوس کا گلاس لیے اسکے سامنے تھی۔

آپ ایسے تو نہ جائیں یہ جوس ہی پی لیں 

وہ فکر مندی سے اسکی طرف دیکھتے ہوئے اسے جوس پینے کا کہہ رہی تھی تھوڑی دیر پہلے کی ڈانٹ کا شائبہ تک نہیں تھا وہ تو اسکو اس قدر پر سکون دیکھ ششد تھا

ہننن ڈرامے!!!

 دل میں اسکو نفرت سے دھتکارتے ہوئے جوس کو ناگواری سے دیکھا پھر قدرے آہستہ آواز میں زہر خند لہجے پر قابو پاتے دھاڑا تھا

تمہیں میں نے دعوت دی ہے کہ میری فکر کرو؟ یا یہ کہاہے کہ دانین بی بی ہم اکیلے میں بھی دکھاوا جاری رکھیں گے؟

 جب میں ِبنا ناشتے کیے آفس جا رہا ہوں تو اس کا مطلب ہے مجھے ناشتہ نہیں کرنا تو اپنی فکر مجھ سے دور رکھا کرو اور یہ وہ اس کی شکل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سرد لہجے میں گویا ہوا تھا جس سے دانین پھٹی پھٹی نگاہوں سے اسے تک رہی تھی 

یہ شکل میرے سامنے مت لایا کرو مما اور ابیہہ کی وجہ سے کچھ دن میں یہ دکھاوا کر رہا ہوں تو کسی خوش فہمی میں نہ رہنا کہ حیدر علی مرتضیٰ تم جیسی مکروہ چہرے والی کو کبھی بیوی کی حیثیت دے گا تم بدقسمتی سے منکوحہ ہو تو وہی رہو اس سے زیادہ کی امید مجھ سے مت رکھنا اور دوسری اور اہم بات یہ کہ جب مما ہوا کرے تب دکھاوا کرنا اب یہ شکل گم کرو اور آئندہ مجھے پیچھے سے آواز دینے کی غلطی مزید نہ کرنا

وہ ناگواری سے اس پر نظرِ غلط ڈالتا اسکی آنکھوں میں آئے آنسو کو نظر انداز کیے نکلتا چلا گیا اور پیچھے وہ اس ستمگر کے لگائے گئے نئے لفظوں کے گھاؤ کو وہیں کھڑے اپنے اندر اتار رہی تھی۔

دل تھا کہ پھٹنے کے در پر تھا آنکھیں بن موسم کی برسات بنی اس کی بے بسی کا پتہ دے رہی تھی 

آہہہ!! تو دانین حیدر آج بھی یہ دن روشن صبح کے بعد تاریکی میں ڈوبتا چلا گیا؟آج بھی تم نے کوئی ایسا جادو نہیں چلایا کہ حیدر علی مرتضیٰ تمہاری اندام لطافت پر قربان ہو؟

یعنی آج کی جنگ میں ہار پھر مقدر بنی اور پچھلے چار ماہ کی طرح یہ دن بھی ایک نئی اذیت کا در کھول گیا

4 thoughts on “Rahe kyun Faslay Sada Darmiyan Episode 1”

Leave a Comment