1.Urdu Novel Online_Rahay kyu faslay sada Darmiyan

Online urdu novel رہے کیوں فاصلے صدا درمیان
Online urdu novel,Rahay kyu faslay sada Darmiyan

 

New Romantic urdu Novels, Heart touching romantic novel,urdu novel online

 

 

 

New Romantic urdu  Novels, Heart touching romantic novel

رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

Websitehttp://Novelmasters.org

catagary:web special urdu online novels

Heart touching rude hero based novel,new forced marriage based urdu novel , Cruel hero based romantic novels is full of emotional, romance,thrill and suspens story of two girls who are friends ،who love each other very much.one is very quiet and patient.The other is fighting.one is sacrificing her life for her husband and the other is rejecting her husband.This story is all about hate and love.

رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

ازقلم: زوبیہ شیخ

قسط نمبر _06

آج صبح سے موسم بہت خوشگوار تھا ۔۔۔۔ بلا کی گرمی میں ایسا موسم غنیمت ہی تھا۔سفید روئی نے پورے آسمان کو ڈھانپا ہواتھا ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے چارسو سرمئی رنگ روشنی کی صورت میں پر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔تھوڑی سی دھوپ میں چھوٹی چھوٹی پانی کی بوندیں برسنے لگیں اور زمین کی بنجر زدہ زمین سیراب ہونے لگی تھی ،چرندپرند چہچہانے لگے تھا اور درخت سرشار سے جھومنے لگے تھے اور وہ ؟ وہ تو اس موسم کی دیوانی تھی ہاں دانین حیدر اس موسم کی دیوانی تھی مگر آج یہ موسم اسے خوش کرنے کے بجائے مزید اداس کرنے لگا تھا اس موسم میں وہ اور اس کی زینی وہ دونوں کتنا انجوئے کرتے تھے اور سالار وہ؟ وہ تو ہمیشہ سے اس موسم میں دانین اور زینی کے ساتھ مستی کیا کرتا تھا اسے آج سب یاد آنے لگے تھے کتنا عرصہ ہو گیا تھا اسے سب سے ملے آنکھیں بھی برسنے لگیں تھی ان کی یاد میں پر ہمیشہ کی طرح اس کے لبوں پر دھیمی مسکراہٹ تھی جو اس کی شخصیت کا منفرد انداز تھا جو اسے ہمیشہ لوگوں میں خاص بنا دیا کرتا تھا۔جب بھی ایسا موسم ہوتا تھا وہ زینی کو ہمیشہ فون کر کے بلا لیا کرتی تھی اور سالار وہ بھی ساتھ آجایا کرتا تھا اور وہ دونوں ہنستی تھی وہ ہر ٹائم زینی کی ٹانگ کھینچا کرتی تھی کہ سالار اس کی دیوانگی میں گھنٹوں گھنٹوں زینی کے ساتھ بیٹھا کرتا تھا اور زینی ہمیشہ کی طرح چڑ جایا کرتی تھی اسے وہ دن یاد آیا جب مما نے مسلسل بھیگنے پر اسے اور زینی کو ڈانٹا تھا تو اس کی بات پر وہ ہنستے ہوئے بولی تھی۔۔

اففف مما یہ آپ پتا نہیں کیوں زندگی اورزندگی کے رنگوں کو انجوئے کرنے نہیں دیتی ہلانکہ اللّٰہ نے خاصم خاص یہ ہمارےلیے عنایت کی ہے انشاء اللہ میں بہت اچھی ماں بنو گی اور اپنے بچوں کو خوب انجوائے کرواؤں گی ۔

جبکہ اس کی اتنی لمبی گردان پر مما ہمیشہ ہنستے ہوئے واک آؤٹ کرجایا کرتی تھی۔۔۔

مسلسل سوچوں کا ارتکاز اماں بی کی آواز نے توڑا تھا۔۔۔

لگتا ہے بی بی جی آپ کو یہ موسم بہت پسند ہے تبھی آپ ماضی کے دریچوں میں واپس چلی گئی ہیں اماں بی نے پیار سے اس کا مسکراتا ہوا چہرہ دیکھا تو وہی اخذ کر پائے تھی جبکہ اس کی بات دانین پھر سے مسکرائی تھی۔۔

ٹھیک کہا۔۔۔ آپ نے اماں بی مجھے یہ موسم بہت، بہت زیادہ پسند ہے مسکراتے ہوئے وہ بارش کو دیکھنے لگی تھی ۔۔

کیا سوچ رہی تھی آپ ؟اماں بی نے ایک اور سوال داغا تھا جس سے وہ کھوئے کھوئے اندازمیں گویا ہوئی تھی

بس ایسے ہی اماں بی۔۔۔۔۔ کچھ یادیں اور بیتے لمحے یاد دلا دیے اس بارش نے۔۔۔۔۔۔۔

افسردگی سےکہتی وہ کھڑکی سے ہٹ گئی تھی۔۔۔

میں آپکے لیے پکوڑے بنا کے لاوں؟

اماں بی نے اسے افسردہ دیکھا تھا خود بھی اداس ہونے لگی تھی تبھی انہوں نے پکوڑوں کی پیشکش کی تھی جو کہ کارآمد ثابت ہوئی تھی۔

ہاں بنا کے لے آئیں بہت مزہ ائے گا وہ چھوٹے بچوں کی طرح چہکتے ہوئےبولی تھی اماں بی بھی مسکرانے لگی تھی بروقت انہوں نے دانین کی نظر دل دل میں اتاری اور نیچے کی طرف بڑھ گئی تھی۔

بارش نے اپنا زور پکڑا تھا اور مسلسل تیز ہوتی جارہی تھی وہ جلدی سے الماری کی طرف بڑھی تھی اور جینز اور شرٹ پہن کر بالوں کو کیچر میں مقید کیے وہ لان کی طرف بھاگی تھی۔۔۔۔۔

اماں بی اماں بی.. ۔۔ وہ لان کی طرف کھلتی کچن کی کھڑکی سے اماں بی کو پکار بیٹھی تھی۔۔۔۔

جی دانین بی بی!!! اماں بی نے فوراً سے پہلے اسے جواب دیتے ساتھ ساتھ پکوڑے بڑے ماہرانہ انداز میں بنا رہی تھی۔۔

اماں بی مجھے بارش میں اکیلے بھیگنا پسند نہیں ہے اپ پلیز میرے ساتھ آ جائیں دانوں مل کر خوب مزہ کرے گے اس نے تھوڑی اونچی آواز میں کہہ کر پھر بارش میں کودنا شروع کر دیا تھا۔۔

جبکہ اماں بی اپنی عمر کا بتاتے ہوئے فورآ انکار کر چکی تھی۔۔۔ اور وہ بارش میں جھومتی گول گول چکر کاٹ رہی تھی جیسے جیسے بارش میں تیزی اتی جا رہی تھی ویسے ویسے اس کی کھلکھلاہٹ بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔

واو۔۔۔۔ اتنی تیز بارش۔۔۔۔۔ اللّٰہ جی بہت شکریہ۔۔۔۔ اس نے آسمان کی طرف بامشکل نظریں اٹھا کے دیکھا تھا اور شکر الہی کیا تھا۔۔۔

اتنا مزہ آ رہا میں حیدر کو بھی بلاتی ہیں ویسے بھی شادی کے بعد یہ ہماری پہلی بارش ہے اور پہلی پہلی چیز کا مزہ ہی اپنا ہے وہ دل ہی دل میں خوش ہوتی لان کی بیک سائیڈ پر آئی تھی جہاں سے کمرے سے ملحقہ بالکونی تھی اندر کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔

حیدر۔۔۔۔۔ حیدر ۔۔۔۔ آواز نہ سننے کے برابر تھی جو اس نے دو دفعہ دی تھی مگر۔۔۔۔ حیدر ہنواز کام میں مصروف تھاا۔۔۔

اس نے ادھر ادھر نظریں دوڑائی تو کچھ نظر نہیں ایا تھا اچانک اس کا ہاتھ سر پر لگا تھا تو مطلوبہ چیز ملتے ہی وہ جی جان سے مسکرائی تھی۔۔۔

لان میں پڑا چھوٹا سے کنکر اٹھایا تھا اور کیچر میں پھنسا کر بالکونی سے اندر کا نشانہ لگایا تھا ایسا کے حیدر اس کی طرف متوجہ ہوسکے۔۔۔

چونکہ آج حیدر افس نہیں جا پایا تھا وجہ آج کی نہ ہونے والی میٹنگ تھی تبھی اس نے اج ریسٹ ڈے لیا تھا مگر پھر کچھ سوچتے وہ اٹھا تھا اور فائلز کو چیک آؤٹ کرنے لگا تھا۔ یوں بھی بوریت بھگانے کا اچھا طریقہ تھا ۔۔۔۔

سو وہ اپنے کام میں مشغول اگلی میٹنگ کی فائلز پر پر غور کر رہا تھاا ۔۔۔کہ اچانک کوئی چیز قدموں میں آ کر پڑی تھی

ناسمجھی سے کبھی وہ بالکونی کبھی کیچر کو دیکھنے لگا تھا

یہ کس نے اور کیونکر پھینکا ہوگا؟ اور حیرانگی سے ہاتھ میں پکڑے کیچر کو غور سے دیکھنے لگا تھا اس نے اچھے سے غور سے دیکھا تھا اسے یاد آیا صبحِ ڈریسنگ پر پڑا تھا غالبا دانین کا تھا ۔۔صبح وہ کیچر اٹھانے لگا تھا کہ دانین نے فورآ سے پہلے اٹھایا تھا اور بالوں میں اڑاسا تھا اس کی ہر ادا اپنی طرف مائل کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔مگر یہ ادا حیدر کی دھڑکنوں میں شور برپا کر گیا تھا وجہ اس کے سلکی اور خوبصورت لمبے بال وہ اپنے بےاختیاری پر جی جان سے شرمندہ ہوتے الٹے قدموں کمرے سے نکلا تھا اوراپنے پیچھے دانین کا جان سے بھرپور قہقہہ سنا تھا خود کو لعنت ملامت کرتا وہ نکلتا چلا گیا تھا۔

تو_ کیا یہ اس نے؟…..

دانین_ دانین…….

وہ اپنی ناگواری سمیت بھڑکتا ہوا نیچے آیا تھا اماں بی جو کیچن میں تھی فورآ سے پہلے باہر نکلی تھی۔۔

یہ کس کا ہے؟ دانین کا؟؟؟؟؟؟؟ اس نے جیسے اس کی تصدیق چاہی تھی۔

جی یہ انہی کا ہے!!!حیدر بیٹے خیریت آپ اتنے غصے میں لگ رہے؟؟ آخری بات پر وہ منمنائی تھی….

کہاں ہے وہ؟ اس نے اماں بی کے سوال کو نظر انداز کیے اس کا پوچھا تھا۔۔

وہ تو باہر ہے شاید لان کی پچھلی طرف!!!!!

وہ اتنا سن کر غصے سے پاوں پٹختے کوریڈور کی طرف آیا تھا اسے یقین ہو چلا تھا بظاہر وہ بڑی ہو چکی تھی مگر بچگانہ حرکتیں اس کے اندر اندر کوٹ کوٹ کے بھری تھی جو اسے ہمیشہ کی طرح نہ گوار گزرا تھا ۔۔۔

اس پر نظر پڑتے ہی وہ جی جان سے حیران ہوا تھا ۔موسلادھار بارش میں وہ تن تنہا کھڑی اپنی سوچوں میں کھوئی ہوئی تھی نظر غیر مرئی نقطوں پر جمی تھی جسے سمجھنے سے وہ فلوقت قاصر تھا ۔۔

ایک پر اسرار شخصیت بنی وہ بالکل خاموش کھڑی تھی چند ثانیے وہ اسے دیکھتا رہا تھا پھر خود کو کمپوز کرتے زور سے آواز دی تھی۔

دانین !!!!!! وہ جو ماضی کے دریچوں میں الجھی ہوئی تھی واپس لوٹی تھی اور چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگی تھی۔۔۔ خاموش لب مسکراہٹ میں بدلے تھے وہ اس کی طرف بڑھی تھی

مجھے یقین تھا کہ آپ ضرور ائیں گے!!!!!! آپ کو بارش میں بھیگنا پسند ہے نہ حیدر؟؟؟؟

اپنی خوشی میں اس کے ماتھے میں تیزی سےنمودار ہوتے ناگواری کے بل اور اس کے جارہانہ تیور بھانپ نہیں پائی تھی ۔۔۔ وہ بس اسے گھورتا رہ تھا۔۔۔۔۔تھوڑی اگے ہوئی اور کاریڈور کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھے وہ اس کے برابر ہوئی تھی۔۔۔۔۔۔

وقت جیسے خاموشی کی نظر تھا مگر پھر ہمیشہ کی طرح بولنے میں پہل دانین نے کی تھی ۔۔۔۔

آپکو پتا ہے جب میں امی کے گھر تھی تو میں بہت مزہ کرتی تھی میں ،زینی اور میرا پیارا سالار!!!!

ہم تینوں مل کر بہت مستیاں کرتے تھے مما کی ڈانٹ بابا کیطرف داری,گرم گرم پکوڑے اور چائے اس بارش کو مزید خوبصورت بنا دیا کرتی تھی میں آپکو بتا نہیں سکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بولتے بولتے اس نے ہتھیلی کھولی تھی اور بارش کا ایک قطرہ ہتھیلی میں لیا تھااور کسی قیمتی متاع کی طرح اپنی ہتھیلی میں قید کیا تھا۔۔۔۔

حیدر نے بہت غور سے اسے دیکھا تھا اس کے دو قدم کے فاصلے پر کھڑی لڑکی کا ایک انوکھا روپ دیکھنے کو ملا تھا اس تمام عرصے میں وہ حیدر کو پہلی دفعہ ایک الگ دانین لگی تھی۔۔

پر وہ یہ اخذ نہیں کر پایا تھا کہ دانین حیدر خوشی میں اسے سب بتا رہی ہے یا وہ پچھلا وقت یاد کر کے افسردہ ہے۔۔

حیدر کو خود کی طرف دیکھتا پاکر وہ ایک قدم اور اگے بڑھی تھی اور اپنے گیلے یخ بستہ ہاتھ سے حیدر کا ہاتھ تھام لیا تھا۔۔۔۔۔۔

حیدر تو اس کی اس جرات پر حیران تھا غصے اور حیرانگی کے ملے جلے تاثرات لیے وہ اسے گھورنے لگا تھا۔۔۔

اس کے لمس نے اندر جیسے سناٹا بھر دیا ایک مانوس سے جذبے سے وہ آشنا ہوا تھا۔۔۔

مگر وہ اتنا کمزور تھا کہ نہ وہ اسے جان سکا تھا نہ ہی کوئی نام دے سکا تھا۔۔۔

آئیں میرے ساتھ “یہ۔ہماری شادی شدہ زندگی کی پہلی بارش ہے جو میں ہم دونوں کے لیے ہمیشہ کے لیے یادگار بنانا چاہتی اور ایسے بہت سے موسم جو ہماری لیے خوشگواری لیے حاضر ہونگے ان کو آپ کے ساتھ انجوائے کرنا چاہتی ہوں جو حال میں ہم دونوں کے لیے انت_ الحیاۃ کی طرح قائم رہے” ۔۔۔۔۔جسے ہم جب یاد کریں تو مسکراہٹ ہمارے لبوں سے جدا نہ ہو۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی تھرتھراتی بھیگی پلکوں سمیت دھیمے لہجے میں بول رہی تھی۔حیدر کا ہاتھ نہایت عقیدت سے اسنے تھام رکھا تھا

اب یہی کھڑے رہنا ہے یا باہر بھی چلنا ہے؟؟؟؟؟

دانین نے باہر کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے مصنوعی خفگی سے اسے کہا تھا۔۔۔۔

نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ حیدر نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تھا ۔۔۔۔

کیا نہیں؟ میں کچھ نہیں جانتی چلیں میرے ساتھ وہ اسے ذبردستی کھینچتے ہوئے دونوں سیڑھیوں سے نیچے لے ائی تھی۔۔۔۔۔ بارش کے تیز ترین عمل نے سیکنڈز میں ہی دونوں کو بھگونا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔۔۔

حیدر نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا وہ جو اپنی لے میں ہاتھ پکڑے چلی جا رہی تھی اپنا توازن برقرار نہ رکھ پائی تھی نتیجتاً وہ اس کے سینے سے ٹکرائی تھی حیدر کی طرف اس کی پشت تھی اس نے ایک دم سے اپنی ہتھیلی اس کے آگے پھیلائی تھی ہ

 

Be Shure to mention in the comments
Continue ……
#novelmaster.org
Read new rude hero based,Rahay Kyu faslsy sada Darmiyan for this website #novelmaster .org,for more romantic Urdu novel and English novels plzzz visit this site and give your feedback.

Novelsmaster.orgurdunovel

For Reading More Interseting Blog Click Here

https://youtube.com/Φchannel/UCKFUa8ZxydlO_-fwhd_UIoA

Leave a Comment