Web special New Romantic NOVEL_ رہے کیوں فاصلے صدا درمیان

رہے کیوں فاصلے صدا درمیان website: Novelmaster.org

   Novel Name: Rhay Kyu Faslay Sada Darmiyan

Written by: zubia sheikh

This story is all about rude hero based Romantic Novel,A very heart touching romantic novel There is a beautiful story of friends who love each other very much.one is A very quiet and patient. Another one who fights. One who sacrifices her everything for her husband the other one who ever tries to hurt him with hate,

                          رہے کیوں فاصلے صدا درمیان 

        

ازقلم_زوبیہ_شیخ#

قسط_نمبر_04

اس میں اول فول کی کیا بات ہے ہے حیدر؟ آپ میرے شوہر ہیں اور اپنی فیلنگز آپ کے سامنے ظاہر کرنا میں اپنا فرض سمجھتی ہوں بہت دیدہ دلیری سے وہ حیدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اپنے دل کا حال بیان کر رہی تھی جو کہ حیدر مرتضی کو پل بھر کے لیے ساکت کر گیا تھا

کیسی لڑکی تھی مسلسل تین مہینے سے اس کی تذلیل میں اضافہ ہو رہا تھا پھر بھی وہ کسی مہان دیوی کی طرح اس کی نفرت کا جواب بہت محبت سے دے رہی تھی ۔
بکواس بند کرو تم اور جاو یہاں سے دھڑکنوں میں بڑھتا اشتعال اسے کچھ کہنے سے بعض کر رہا تھا دل کے بڑھتے شور کو دبانے کے لیے اسنے جلدی سے چائے اٹھائ اورلبوں سے لگائے مصروف ہوا تھا
کمرے میں بڑھتی خاموشی سے بےچین ہوتی وہ اٹھی تھی اور ساس کے کمرے کی طرف چل دی تھی
دو کمرے چھوڑ تیسرے کمرے میں ممتاز بیگم رہائش پزیر تھی
اسلام علیکم! مما!!!!!! دروازے سے اندر اتے سلام کرتی وہ ممتاز بیگم کے ساتھ چپکی تھی۔۔
مما مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے آپ کے پاس بیٹھ جاوں وہ معصومیت سے پوچھتی ممتاز بیگم کو ہمیشہ کی طرح مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی کتنی معصوم تھی وہ ممتاز بیگم نے دل۔ہی دل میں نظر اتاری تھی
ارے میرا بچا ماں صدقے آؤ ادھر !!! اپنی باہنیں کھولے اسے خووود میں بھینچ گئی تھی ممتا کا احساس ملتے ہی دانین کا ضبط ٹوٹا تھا اور وہ زاروقطار رو نے لگی تھی
کیا ہوا میرا بچہ ایسے کیوں رو رہی ہو دانین کا ہچکولے لیتا وجود انہیں انجان خدشے میں دھکیل گیا تھا۔۔۔۔۔
حیدر جو خالی کمرے کی ویرانی کی وجہ سے کمرے سے نکلتا اپنی ماں کے کمرے کی طرف آیا تھا مگر اندر سے اتی آواز اور دانین کا رونا اسکو ٹھٹکا گیا تھاا۔۔۔۔
مسلسل روتے دل ہلکا ہوا تو وہ ان سے جدا ہوئی تھی۔۔۔
ارے مما کچھ بھی نہیں ہوا بسسسسسس آج پتا نہیں کیوں امی کی یاد آ رہی ہے اور پھر آپ بھی کل چلی جائیں گی تو دل بہت اداس ہو رہا تھا اس لیے رونا آرہا تھا مسلسل رونے کی وجہ سے اواز میں بھاری پن تھا جو کہ حیدر کو جھنجھوڑ گیا تھا دل میں درد بڑھا تھا تو وہ الٹے قدموں کمرے میں آیا تھا ۔۔۔۔
“تو میرا بچہ میری بھی مجبوری ہے ورنہ میں آپ کو کبھی چھوڑ کے جا ہی نہیں سکتی تھی کبھی بھی”
اس کے آنسوں کو صاف کرتی اسے پیار کرنے لگی تھی مسلسل دونوں نے وقت گزارا تو ٹائم کا احساس ہوا ۔۔۔۔
افففف اللہ مما حیدر بھوکے ہیں صبح سے چلیں آپ بھی نیچے چلیں میں حیدر کو لے کے اتی ہوں ایک تو مما یہ اپنے کھانے کا بلکل دھیان نہیں رکھتے۔۔۔۔ وہ جلدی جلدی ہدایات دیتی اب اپنے کمرے کی طرف بڑھی تھی۔۔۔۔
سفید کاٹن کا سوٹ پہنے پاوں میں کینچی چپل اڑاسے وہ کھڑکی کےسامنے کھڑا مسلسل چاند کو دیکھ رہا تھا ماتھے پر بکھرے بالوں سے بے نیاز وہ چاند کو تکے جا رہا تھااس کی آمد سے باخبر وہ آنکھیں گاڑے دانین کو اس سحر زدہ ماحول کا حصہ لگا تھااا اسے آواز دیے بنا وہ مسحور سے کھڑی اسے تکتی رہی تھی دانین کی نظروں کی تپش تھی یا چاند کی چمکتی چاندنی کی روشنی میں اسکی موجودگی کا احساس ۔۔۔۔۔ حیدر نے نظروں کا رخ اس کی طرف کیا تو وہ اسے ٹکٹکی باندھے دیکھتی دانین مزید ڈھیٹ ہوئی
کیا ہے ایسے کیوں دیکھ رہی ہو؟
حیدر کو اسکا یوں تکتا دیکھنا ایک آنکھ نہ بھایا تھا تبھی اس پے چڑا تھا۔
میں آپکو کھانے کے لیے بلانے آئی ہوں
دانین اپنی خفت مٹانے کے لیے اپنے آنے کا جواز پیش کرنے لگی۔ ۔۔۔۔۔
غصہ تو انکی ناک پر دھرا رہتا ہے اب پھر ہر روز کی طرح دہرائے گے۔۔۔
اماں بی(نوکرانی) کہاں ہے جو تم پھر سے آپنی شکل دیکھانے آ جاتی ہو؟
حیدر کا لہجہ اور الفاظ حسب تواقع تھے دانین بے اختیار مسکرائی۔۔۔
ہائے کتنی گریٹ ہو تم دانین حیدر کتنے اچھے سے جاننے لگی ہو اپنے شوہر کو اس نے دل ہی دل میں خود کو شاباش دی تھی۔
حیدر نے اس کی بات کا جواب دینے کے بجائے اسے نظر انداز کیے فون پر مصروف ہوا تھااا

اماں بی تو ہیں پر میرا دل کرتا ہے میں اپکا کام خود کروں تاکہ اپنے آس پاس آپ صرف مجھے محسوس کریں
دانین نے مزے لیتے ہوئے اسے مزید چڑایا اور وہیں اس کے پاس دوبارہ آ کے ٹک گئی تھی جبکہ وہ اسے گھورتا بنا دانین کو جواب دیے نکلتا چلا گیا تھا جبکہ اس کے انداز پر دانین مسکرا دی۔۔۔
افف میں بھی نہ!!! حیدر تو بہت اچھے ہیں میری بچکانہ حرکتوں کو اگنور کر دیتے ہیں ابھی بھی بنا کیے وہ چلے گئے کمال کی بات ہے اور پھر زندگی تو ساتھ گزارنی ہے نہ اسے اچھی زندگی گزارنے کے لیے ہمیں ایک۔دوسرے کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور پھر ابھی ٹائم ہی کتنا ہوا ہے ہماری شادی کو۔ بس اب حالات جو بھی ہو مجھے اپنا سارا وقت حیدر کو دینا ہوگا تاکہ یہ کدورتیں مٹ سکیں ان کی جگہ قربتیں بڑی سرعت سے گھر کریں ۔۔۔

وہ وہی کھڑے حیدر کو سوچتی رہی۔۔۔۔

~ھم خود اتر آئے تیرے دست طلب پر۔”

۔ھم جیسے پر ندوں نے کد ھر جا نا آخر۔۔۔

رات بہت کٹھن تھی دونوں فریقوں کے لیے جیسے تیسے کر کے گزر چکی تھی اگلی صبح کا سورج باقی تمام عرصے میں کچھ الگ سا بن کے ان دونوں کے کیے نکلا تھا ۔ایک۔نے نفرت کی حد تک سوچا تھا اور دوسرے نے محبت کی قندیلوں کو چھوتے ہوئے ۔جانے زندگی کہاں لے کے جا رہی تھی کسی کو خبر نہ تھی ۔۔
یہ منظر رضوی خاندان کا تھا جہاں گھر کے تمام افراد اس وقت ناشتے کی ٹیبل پر مدعو زینش کے آنے کا انتظار کر رہے تھے سامنے والی کرسی پر ابراہیم رضوی اور اس کے برابر میں احمد رضوی تھے جبکہ ان دونوں کی بیویاں ناشتے کے لوازمات سجانے لگی تھی۔۔۔
کہاں رہ گئی ہے؟ ذینی بلاؤ اسے!
انتظار طویل ہوا تو ابراہیم رضوی نے گھڑی میں ٹائم دیکھتے ہوئے اس کو بلانے کا پیغام دیا تھا ۔ سالار جانتا تھا کہ وہ محض اس سے سامنا نہ کرنے کی وجہ سے اس طرح کر رہی ہے ورنہ وہ کبھی بھی کھانے سے اتنی دیری نہیں کرتی تھی۔۔
مسسز ابراہیم اثبات میں سر ہلائے زینش کو بلانے نکلی تھی کہ وہ سامنے سیڑھیوں سے اترتی نظر آئی ۔۔ سالار جو اس کے آنے کا منتظر تھا یک دم ٹھٹھکا تھا ۔
ریڈ شرٹ اور وائٹ ٹراؤزر میں اس کا حسن سوگوار گزرا تھا ایسے ہی تو وہ اس کا دیوانہ نہیں تھا ۔۔۔ محبت کی قندیلوں نے مظبوطی پکڑی تھی اور بس سر جھکا گیا تھاا۔نظروں کی مسلسل تپش اس کو جھلسا رہی تھی جانتی تھی کون ہے پر نظر انداز کیے وہ چلتی ہوئی سالار کے بلکل ساتھ والی کرسی پر سلام کرتے ہوئے براجمان ہوئی تھی۔۔۔
آواز میں واضح بھاری پن تھا جس کو بخوبی سب نے نوٹ کیا تھا
کیا ہوا ہے آواز کو ٹھیک تو ہے اپکی طبیعیت ؟ سب سے پہلے سالار کی مام نے اس کی آواز کے بھاری پن کی بابت دریافت کی تھی۔۔۔
جی چچی جان ٹھیک ہوں تھوڑا سا زکام کی شکایت ہے اس نے ان کی بات کا جواب دیتے ہوئے تسلی دی تھی جب کے سالار کی گہری نظریں اس پر گڑی تھی۔۔۔۔
سب نے ہمم کہہ کر ناشتے پر توجہ دی تھی اور ناشتہ کرنے لگے تھے گاہے بگاہے سالار اس سے بولنے کی کوشش کر رہا تھا جس کا جواب وہ ہوں ہاں میں دے رہی تھی ۔۔۔
ناشتے سے فارغ ہوئے تو گھر کے مرد اٹھنے لگے تھے
” بیٹھ جائیں سب مجھے آپ سب سے بہت ضروری بات کرنی ہے”
سالار کا دل ڈوبا تھا جبکہ باقی سب الجھن کے شکار تھا آج تک تو اسنے ایسے کسی کو اٹھتے نہیں ٹوکا تھا اب کیا ماجرہ کیا وجہ آن پڑی کہ وہ اس طرح سے ٹوک گئی تھی
اب منظر یہ تھا کہ سب اسے دیکھ رہے تھے سالار سمیت مگر سالار دل ہی دل میں گھبرا رہا تھا۔۔
سالار کے بچے ضائع ہونے کے لیے تیار ہوجا اب باقاعدہ وہ بڑبڑا رہا تھا جس کی بڑبڑاہٹ کوئی سن نہیں پایا تھا
پاپا اور چاچو میں جانتی ہوں آپ سب کو چھوڑ کے ایک نہ ایک دن میں نے جانا ہی ہے بے شک چار مہینے بعد یا ایک سال بعد ۔میں نے سوچ سمجھ کے فیصلہ کیا ہے میں جانتی ہوں آپکو بھی اعتراض نہیں ہوگا۔۔۔
الجھن مزید بڑھی تھی سب کی نظروں کا مرکز اس وقت زینش ابراہیم رضوی تھی جو کہ آج پتا نہیں کیا سوچ کر آئی تھی۔۔

continued…..

For more Episodes Stay tunned with us……….

The identity of each fresh and old novelist in the novel master is the novel written by him/herself. The novel master is the identity of the literary people. Please comment on the section below to review the storyرہے کیوں فاصلے صدا درمیان New Romantic Novels, Heart touching romantic novel. Thanks

Leave a Comment